ملفوظات (جلد 6) — Page 198
سوال ہے۔خدا تعالیٰ مسیح علیہ السلام سے پوچھے گا کہ کیا تو نے لوگوں کو ایسی تعلیم دی تھی کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لینا تو وہ جواب میں عرض کریں گے کہ بارِ خدایا جب تک میں زندہ رہا اور ان میں رہا میں نے تو ان کو ایسی تعلیم نہیں دی البتہ جب تو نے مجھ کو مار دیا تو پھر تو ہی ان کا نگران حال تھا۔مجھے کوئی علم نہیںکہ میرے پیچھے انہوں نے کیا کیا۔یہ کیسی موٹی بات ہے کہ خود مسیح اپنی وفات کا اقرار کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اگر عیسائی بگڑے تو میری وفات کے بعد بگڑے۔جب تک میں ان میں زندہ رہا تب تک وہ صحیح عقیدے پر قائم تھے۔اب اگر عیسائی بگڑ گئے ہیں تو بالضرور مسیح مَر چکا ہے اور اگر مسیح آج تک نہیں مَرا تو عیسائی بھی نہیں بگڑے اور اگر عیسائی نہیں بگڑے تو بالضرور عقیدہ الوہیت مسیح بھی درست ہے۔پھر مسیح کا یہ کہہ دینا کہ مجھے تو ان کے بگڑنے کا علم نہیںجیسے کہ اسی آیت سے پایا جاتا ہے۔کیا یہ جواب ان کا جھوٹا نہیں ہوگا اگر ان کا دوبارہ دنیا میں آنا درست ہے۔کیونکہ سوال و جواب قیامت کو ہوگا۔اور اگر انہوں نے دوبارہ دنیا میں آکر چالیس سال رہنا ہےا ور عیسائیوں اور کفار کو قتل کر کے اسلام کو پھیلا نا ہے تو بالضرور انہوں نے عیسائیوں کی بگڑی ہوئی حالت کو دیکھ لیا ہے اور اس بگڑی ہوئی حالت کو دیکھ کر وہ دوبارہ اس دنیا سے تشریف لے جاویں گے تو پھر حضرت مسیح کا یہ جواب دینا خد اکے حضور میں دروغ بیانی ہے۔کیا وہ احکم الحاکمین نہ کہے گا کہ تُو تو دوبارہ دنیا میں گیا اور تو نے دیکھ لیا کہ میری امت بگڑ چکی تھی۔ایک مجازی حاکم کے آگے غلط بیانی، دروغِ حلفی کے جرم کا خطرناک ارتکاب ہے چہ جائیکہ ایک عالم الغیب حاکم کی جناب میں ایسی دروغ بیانی کی جاوے توگویا اس آیت نے بڑی صفائی کے ساتھ ایک طرف مسیح کی وفات کو ثابت کر دیا اور دوسری طرف ان کے دوبارہ دنیا میں تشریف لانے کا بطلان کر دیا۔اس کے مقابل جب ہم حدیثوں پر غور کرتے ہیں تو وہاں سے بھی یہی نتیجہ نکلتا ہے۔حضرت رسالت مآبؐنے فرمایا اور یہ متفق علیہ حدیث ہے کہ میں نے حضرت مسیحؑ کو حضرت یحیٰیؑ کے ساتھ دیکھا۔حضرت یحییٰ کا مَر جانا اور ان کا اس جماعت میں داخل ہونا جن کی قبض روح ہوچکی ہے ثابت شدہ اَمر ہے۔اب یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مسیح بِلا قبض روح و انتقال کرنے کے ایک ایسے شخص کا جلیس ہو جو دنیا سے مَر چکا ہے۔اب ایک طرف قولِ خدا اور دوسری طرف رؤیت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وفات مسیحؑ اور ان کا دوبارہ دنیا میں واپس نہ آنا قطعی ثابت ہوگیا۔اب بھی یہ لوگ اگر عقیدہ حیات مسیحؑ سے باز نہ آویں تو یہی سمجھا جاوے گا کہ سچی ہدایت اور سعادت صرف خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ان کے حال پر تو پھر سعدی کا یہ قول صادق آتا ہے۔؎ آنکس کہ بقرآں و خبر زد نہ دہد ایں است جوابش کہ جوابش نہ دہی آنے والا مسیح امتی ہوگا رہا یہ کہ آنے والا کون ہے اس کا فیصلہ بھی قرآن و حدیث نے کر دیا ہے۔سورۃ نور نے صاف طور پر بیان کیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء اس امت میں سے ہوں گے۔بخاری اور مسلم کا بھی یہی مذہب ہے کہ آنے والا مسیح اس امت میں سے ہوگا۔اب ایک طرف قرآن و حدیث بنی اسرائیلی مسیح کی موت اور اس کے دوبارہ نہ آنے کو بیان کرتے ہیں۔دوسری طرف یہی قرآن و حدیث آنے والے مسیح کو اسی اُمّت میں سے ٹھہراتے ہیں تو پھر اب انتظار کس بات کا ہے۔