ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 193 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 193

اہل اللہ اور رِیا حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب نے ایک مرتبہ فرمایا کہ میں نے حضرت علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پوچھا کہ کیا کبھی ممکن ہو سکتا ہے کہ آپ میں بھی ریا آوے؟اس پر فرمایا۔کبھی چڑیا خانہ گئے ہو؟ میں نے کہا کہ ہاں۔فرمایا۔دیکھو! وہاں شیر، چیتے اور دوسرے حیوانات ہوتے ہیں۔کبھی یہ خیال وہاں جا کر دل میں آسکتا ہے کہ ان کے سامنے لمبی لمبی نمازیں پڑھیں؟ کبھی یہ خیال وہاں جا کر رِیاکار سے رِیاکار کے دل میں بھی نہیں آسکتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خوب جانتا ہے کہ یہ حیوانات ہماری جنس سے تو نہیں ہیں تو پھر رِیا کہاں رہی۔ریا تو ہم جنسوں سے ہوتی ہے تو اہل اللہ کس سے رِیا کریں۔ان کے سامنے دوسرے لوگوں کی وہی مثال ہے جیسے چڑیا خانہ میں جانور بھرے ہوئے ہیں۔اپنے الہامات پر کامل ایمان مولانا موصوف نے فرمایا کہ ایک دن کی مجھے بات یاد ہے کہ کسی نے ذکر کیا کہ منشی الٰہی بخش اور اس کا ترجمان منشی عبد الحق کہتا ہے کہ الہام وہ ہے جو پورا ہوجاوے اور جو نہ ہووے وہ شیطانی کام ہے۔حضرت نے فرمایا کہ مکہ معظمہ میں داخل ہو کر اگر خدا تعالیٰ کی قسم دی جاوے تو میں کہوں گا کہ میرے الہام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں لیکن جس شخص نے خیالی طور پر دعویٰ کیا ہو وہ ہرگز یہ جرأت نہیں کر سکتا۔کبھی وہ شخص جو کامل یقین رکھتا ہے اور وہ جو مشکوک ہے برابر ہو سکتےہیں؟ عہد دوستی مولانا موصوف نے کہا کہ ایک دفعہ حضرت اقدس نے خاص طور پر مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔’’میرے خُلق کی پیروی کر‘‘ میں نے عرض کی کہ دعا کرو۔