ملفوظات (جلد 6) — Page 192
اِنَّـمَا الْاَعْـمَال بِالنِّیَّاتِ۔ہم نے اپنی تصویر محض اس لحاظ سے اتروائی تھی کہ یورپ کو تبلیغ کرتے وقت ساتھ تصویر بھیج دیں کیونکہ ان لوگوں کا عام مذاق اس قسم کا ہوگیا ہے کہ وہ جس چیز کا ذکر کرتے ہیں ساتھ ہی اس کی تصویر دیتے ہیں جس سے وہ قیافہ کی مدد سے بہت سے صحیح نتائج نکال لیتےہیں۔مولوی لوگ جو میری تصویر پر اعتراض کرتے ہیں وہ خود اپنے پاس روپیہ پیسہ کیوں رکھتے ہیں کیا ان پر تصویریں نہیں ہوتی ہیں؟ اسلام ایک وسیع مذہب ہے۔اس میں اسلام کا مدار نیّات پر رکھتا ہے۔بدر کی لڑائی میں ایک شخص میدانِ جنگ میں نکلا جو اِترا کر چلتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھو یہ چال بہت بُری ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔وَ لَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا(بنی اسـرآءیل:۳۸) مگر اس وقت یہ چال خدا تعالیٰ کو بہت ہی پسند ہے کیونکہ یہ اس کی راہ میں اپنی جان تک نثار کرتا ہے اور اس کی نیت اعلیٰ درجہ کی ہے۔غرض اگر نیت کا لحاظ نہ رکھا جاوے تو بہت مشکل پڑتی ہے۔اسی طرح پر ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن کا تہ بند نیچے ڈھلکتا ہے وہ دوزخ میں جاویں گے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ سن کر رو پڑے کیونکہ ان کا تہ بند بھی ویسا تھا۔آپؐنے فرمایا کہ تُو ان میں سے نہیں ہے۔غرض نیت کو بہت بڑا دخل ہے اور حفظِ مراتب ضروری شَے ہے۔منشی نظیر حسین صاحب۔میں خود تصویر کشی کرتا ہوں۔اس کے لیے کیا حکم ہے؟ فرمایا۔اگر کفر اور بُت پرستی کو مدد نہیں دیتے تو جائز ہے۔آجکل نقوش و قیافہ کا علم بہت بڑھا ہوا ہے۔۱ بِلا تاریخ ۱ الحکم جلد ۸ نمبر ۱۹، ۲۰ مورخہ ۱۰،۱۷؍جون ۱۹۰۴ء صفحہ ۱