ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 191 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 191

اور آخر دہریہ ہوکر مَرتا ہے۔نیم ملّاں خطرہ ایمان جہاں حضور بیٹھے ہوئے تھے وہاں سامنے ایک آم کا درخت تھا جس کو کچے پھل لگے ہوئے تھے۔ان کو دیکھ کر فرمایا۔دیکھو اس آم کو پھل لگا ہوا ہے مگر یہ کچا پھل ہے اگر کوئی اس کو کھانے بیٹھ جاوے اور اس کو ہی اصل مقصد سمجھ لے تو بجز اس کے کہ اس کے کھانے سے پھنسیاں وغیرہ نکل آویں کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔اسی طرح پر نیم ملّاں خطرہ ایمان والی مثال سچ ہے۔نارسیدہ منزل کا کچے پھل کی طرح ہوتا ہے۔وہ جو کسی کو بات سنائے گا تو اسے گمراہ کرے گا اور اگر خود کرے گا تو آپ گمراہ ہوگا۔خدا تعالیٰ کی راہ میں جب تک انسان بہت سی مشکلات اور امتحانات میں پورا نہ اترے وہ کامیابی کا سرٹیفکیٹ حاصل نہیں کر سکتا۔اسی لیے فرمایا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْۤا اَنْ يَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ(العنکبوت:۳) کیا لوگ گمان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ محض اتنی ہی بات پر راضی ہو جاوے کہ وہ کہہ دیں کہ ہم ایمان لائے اور وہ آزمائے نہ جاویں۔ایسے لوگ جو اتنی بات پر اپنی کامیابی سمجھتے ہیں وہ یاد رکھیں انہیں کے لیے دوسری جگہ آیا ہے وَ مَا هُمْ بِـمُؤْمِنِيْنَ(البقرۃ:۹) اور ایسا ہی ایک جگہ فرمایا قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا١ؕ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا (الـحجرات:۱۵) یعنی تم یہ نہ کہو کہ ایماندار ہوگئے بلکہ یہ کہو کہ ہم نے مقابلہ چھوڑ دیا ہے اور اطاعت اختیار کر لی ہے۔بہت سے لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں۔کامل ایماندار بننے کے لیے مجاہدات کی ضرورت ہے اور مختلف ابتلاؤں اور امتحانوں سے ہو کر نکلنا پڑتا ہے۔؎ گویند سنگ لعل شود در مقام صبر آرے شود و لیک بخونِ جگر شود فوٹو گرافی منشی نظیر حسین صاحب نے سوال کیا کہ میں فوٹو کے ذریعہ تصویریں اتارا کرتا تھا۔اور دل میں ڈرتا تھا کہ کہیں یہ خلافِ شرع نہ ہو لیکن جناب کی تصویر دیکھ کر یہ وہم جاتا رہا۔فرمایا۔