ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 189 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 189

دنیا کی مشکلات اور تلخیاں دنیا کی تلخیوں اور عام ناکامیوں پر فرمایاکہ مثنوی میں لکھا ہے۔؎ دشت دنیا جزدد و جز دام نیست جز بخلوت گاہِ حق آرام نیست فرمایا۔دنیا کی مشکلات اور تلخیاں بہت ہیں۔یہ ایک دشت پُر خار ہے۔اس میں سے گذرنا ہرشخص کا کام نہیں ہے۔گذرنا تو سب کو پڑتا ہے لیکن راحت اور اطمینان کے ساتھ گذر جانا یہ ہر ایک شخص کو میسر نہیں آسکتا۔یہ صرف ان لوگوں کا حصّہ ہے جو اپنی زندگی کو ایک فانی اور لاشَے سمجھ کر اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کے لیے اسے وقف کر دیتے ہیں اور اس سے سچا تعلق پیدا کر لیتے ہیں۔ورنہ انسان کے تعلقات ہی اس قسم کے ہوتے ہیںکہ کوئی نہ کوئی تلخی اس کو دیکھنی پڑتی ہے۔بیوی اور بچے ہوں تو کبھی کوئی بچہ مَر جاتا ہے تو صدمہ برداشت کرتا ہے۔لیکن اگر خدا تعالیٰ سے سچا تعلق ہو تو ایسے ایسے صدمات پر ایک خاص صبر عطا ہوتا ہے جس سے وہ گھبراہٹ اور سوزش پیدا نہیں ہوتی جو ان لوگوں کو ہوتی ہے جن کا خدا سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔پس جو لوگ اللہ تعالیٰ کے منشا کو سمجھ کر اس کی رضا کے لیے اپنی زندگی کو وقف کرتے ہیں۔وہ بے شک آرام پاتے ہیں ورنہ ناکامیاں اور نامرادیاں زندگی تلخ کر دیتی ہیں۔ایک کتاب میں ایک عجیب بات لکھی ہے کہ ایک شخص سڑک پر روتا ہوا چلا جا رہا تھا۔راستہ میں ایک ولی اللہ اس سے ملے۔انہوں نے پوچھا کہ تو کیوں روتا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میرا دوست مَر گیا ہے۔اس نے جواب دیا کہ تجھ کو پہلے سوچ لینا چاہیے تھا۔مَرنے والے کے ساتھ دوستی ہی کیوں کی؟ دنیا عجیب مشکلات کا گھر ہے۔بیوی بچوں کے نہ ہونے سے بھی غم ہوتا ہے اور اگر ہوں تب بھی مشکلات پیدا ہوتے ہیں۔ان کی ضروریات کے پورا کرنے کے لیے بعض نادان انسان عجیب عجیب مشکلات میں مبتلا ہوتا ہے اور صراط مستقیم سے ہٹ کر ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مال بہم پہنچاتا ہے اور پھر اور مشکلات میں پھنستا ہے۔ایک فقیر ننگ دھڑنگ جس کے پاس ستر پوشی کےسوا اور کوئی کپڑا تک نہ تھا خوش و خرم کھیلتا کودتا جا رہا تھا۔کسی سوار نے اس سے پوچھا کہ سائیں صاحب آپ