ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 188

کیفیت پیدا ہوگی اور وہ ان دانہ شماریوں کو ہیچ سمجھے گا۔تعداد رکعات پھر پوچھا گیا کہ نمازوں میں تعداد رکعات کیوں رکھی ہے؟فرمایا۔اس میں اللہ تعالیٰ نے اور اسرار رکھے ہیں۔جو شخص نماز پڑھے گا وہ کسی نہ کسی حد پر تو آخر رہے گا ہی اور اسی طرح پر ذکر میں بھی ایک حد تو ہوتی ہے لیکن وہ حد وہی کیفیت اور ذوق و شوق ہوتا ہے جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔جب وہ پیدا ہو جاتی ہے تو وہ بس کر جاتا ہے۔دوسرے یہ بات حال والی ہے قال والی نہیں۔جو شخص اس میں پڑتا ہے وہی سمجھ سکتا ہے۔اصل غرض ذکرِ الٰہی سے یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو فراموش نہ کرے اور اسے اپنے سامنے دیکھتا رہے اس طریق پر وہ گناہوں سے بچا رہے گا۔تذکرۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ ایک تاجر نے ستّر ہزار کا سودا لیا اور ستّر ہزار کا دیا مگر وہ ایک آن میں بھی خدا سے جدا نہیں ہوا۔پس یاد رکھو کہ کامل بندے اللہ کے وہی ہوتے ہیں جن کی نسبت فرمایا لَا تُلْهِيْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ (النّور:۳۸) جب دل خدا کے ساتھ سچا تعلق اور عشق پیدا کر لیتا ہے تو وہ اس سے الگ ہوتا ہی نہیں۔اس کی ایک کیفیت اس طریق پر سمجھ میں آسکتی ہے کہ جیسے کسی کا بچہ بیمار ہو تو خواہ وہ کہیں جاوے، کسی کام میں مصروف ہو مگر اس کا دل اور دھیان اسی بچہ میں رہے گا۔اسی طرح پر جو لوگ خدا کے ساتھ سچا تعلق اور محبت پیدا کرتے ہیں۔وہ کسی حال میں بھی خدا کو فراموش نہیں کرتے۔یہی وجہ ہے کہ صوفی کہتے ہیں کہ عام لوگوں کے رونے میں اتنا ثواب نہیں ہے جتنا عارف کے ہنسنے میں ہے۔وہ بھی تسبیحات ہی ہوتی ہیں کیونکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے عشق اور محبت میں رنگین ہوتا ہے۔یہی مفہوم اور غرض اسلام کی ہے کہ وہ آستانہءِ الوہیت پر اپنا سر رکھ دیتا ہے۔۱ ۱۶؍مئی ۱۹۰۴ء بمقام گورداسپور اعلیٰ حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام احاطہ کچہری میں رونق افروز تھے۔وقتاً فوقتاً جو کچھ آپ نے فرمایا ہدیہ ناظرین ہے۔(ایڈیٹر الحکم)