ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 183 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 183

صفائی نہیں کرتے۔سچی تبدیلی کا ارادہ نہیں معلوم ہوتا۔ورنہ پھر وہی شوخی اور بے باکی کیوں نظر آرہی ہے۔اگر سچی تبدیلی ہو تو ممکن نہیںکہ طاعون نہ ہٹ جائے۔تعجب کی بات ہے کہ ایک طرف جب میں کہتا ہوں کہ سچی تبدیلی کرو اور استغفار کرو۔خدا تعالیٰ سے صلح کرو تو میری ان باتوں پر ہنسی کرتے ہیں اور ٹھٹھے اڑاتے ہیں اور اب خود بھی دعا ہی اس کا علاج بتاتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ طاعون ان کے ہی سبب سے آیا ہے کیونکہ انہوںنے جھوٹے دعوے کئے تھے۔مجھے ان کی اس بات پر بھی تعجب اور افسوس آتا ہے کہ میں تو جھوٹے دعوے کر کے سلامت بیٹھا ہوں حالانکہ بقول ان کے طاعون میرے ہی سبب سے آیا ہے اور مجھے ہی حفاظت کا وعدہ دیا جاتا ہے۔یہ عجیب معاملہ ہے۔یہ بات تو ان عدالتوں میں بھی نہیں ہوتی کہ صریح ایک مجرم ہو وہ چھوڑ دیا جاوے اور بے گناہ کو پھانسی دے دی جاوے۔پھر کیا خدا تعالیٰ کی خدائی ہی میں یہ اندھیر اور ظلم ہے کہ جس کے لیے طاعون بھیجا جاوے وہ تو محفوظ رہے اورا س کو سلامتی کا وعدہ دیا جاوے اور وہ ایک نشان ہو اور دوسرے لوگ مَرتے رہیں۔میں کہتا ہوں اسی ایک بات کو لے کر کوئی شخص انصاف کرے اور بتاوے کہ کیا ہوسکتا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ پر افترا کرے وہ سلامت رہے اور اس کو یہ وعدہ دیا جائے کہ تیرے گھر میں جو ہوگا وہ بھی بچایا جاوے گا اور دوسروں پر چُھری چلتی رہے؟ یہ تو وہی شیعوں کی سی بات ہے۔وہ کہتے ہیں کہ نبوت دراصل حضرت علیؓ کو ملنی تھی اور انہیں کے واسطے جبریل لائے تھے مگر غلطی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی اور تئیس سال تک برابر یہ غلطی چلی گئی اور اس کی اصلاح نہ ہوئی۔ایسا ہی اب بھی غلطی لگ گئی۔جن کی حفاظت کرنی تھی وہ تو مَر رہے ہیں اور جو حفاظت کے لائق نہ تھے ان کی حفاظت کا وعدہ ہوگیا!!! بھلا اس قسم کی باتوں پر کوئی تسلی پا سکتا ہے۔طاعون سے معجزانہ حفاظت ایک امرتسری ملّا کا ذکر آیا کہ وہ کہتا ہے کہ ایک سال گذر گیا تو کیا ہوا۔ابھی آگے دیکھنا چاہیے۔فرمایا۔وہ تو ایک سال کا کہتا ہے ہم تو یقین رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے جو وعدہ کیا ہے وہ بالکل سچا الحکم جلد ۸ نمبر ۱۹، ۲۰ بابت ۱۰،۱۷؍جون ۱۹۰۴ء صفحہ ۲،۳