ملفوظات (جلد 6) — Page 174
بیعت کی حقیقت بیعت کا لفظ ایک وسیع معنی رکھتا ہے اور اس کا مقام ایک انتہائی تعلق کا مقام ہے کہ جس سے بڑھ کر اور کسی قسم کا تعلق ہو ہی نہیں سکتا۔بعض لوگ ایسے ہیں کہ وہ ہمارے نور کی پوری روشنی میں نہیں ہیں۔جب تک انسان کو ابتلا کی برداشت نہ ہو اور ہر طرح سے وہ اس میں ثابت قدمی نہ دکھا سکتا ہو تب تک وہ بیعت میں نہیں ہے۔پس جو لوگ صدق و صفا میں انتہائی درجہ تعلق پر پہنچے ہوئے ہیں خدا تعالیٰ ان کو امتیاز میں رکھتا ہے طاعون کے ایام میں جو لوگ بیعت کرتے ہیں وہ سخت خطرناک حالت میں ہیں کیونکہ صرف طاعون کا خوف ان کو بیعت میں داخل کرتا ہے۔جب یہ خوف جاتا رہا تو پھر وہ اپنی پہلی حالت پر عود کر آویں گے۔پس اس حالت میں ان کی بیعت کیا ہوئی؟۱ ۸؍مئی ۱۹۰۴ء طاعون کا نشان اور جماعت احمدیہ حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام گورداسپور تھے۔ہمارے مکرم خلیفہ رجب الدین صاحب تاجر برنج لاہور بھی شرفِ نیاز کے لیے آئے ہوئے تھے۔خلیفہ صاحب ایک روشن خیال اور ذی فہم آدمی ہیں وہ لاہور کے حالات ذکر کرتے رہے کہ وہاں کے مسلمانوں کی عجیب حالت ہو رہی ہے۔ہراتوار کو زیارتیں نکال کر باہر لے جاتےہیں۔اور اس فعل کو دفعیہ طاعون کے لیے کافی سمجھتے ہیں۔مسلمانوں کی اس حالت پر خلیفہ صاحب افسوس کر رہے تھے اور اپنے مختلف حالات سناتے رہے۔آخر آپ نے عرض کیا۔خلیفہ صاحب۔طاعون میں بعض مقامات پر جو ہمارے احباب مَرتے ہیں اور لوگ اعتراض کرتے ہیں۔اس کا کیا جواب دیا جاوے؟ حضرت اقدس۔اصل بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی مامور کو دنیا میں بھیجتا ہے تو سنّت اللہ یہی ہے کہ تنبیہ کے لیے کوئی نہ کوئی عذاب بھی بھیجتا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کی مخالفت