ملفوظات (جلد 6) — Page 173
کہ تُو کون ہے جو مجھے ضرر دے سکے اور خدا کے وعدہ کو ٹال سکے۔تھوڑے عرصہ میں وہ خود بخود ہی بیٹھ گئی۔آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے فرمایا۔مدّت کا یہ میرا الہام ہے کہ ’’آگ سے ہمیں مت ڈرا آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔‘‘ یہ ویسے ہی ہے جیسے حدیث شریف میں ہے کہ بعض بہشتی بطور سیر دوزخ کو دیکھنا چاہیں گے اور اس میں اپنا قدم رکھیں گے تو دوزخ کہے گی کہ تو نے تو مجھے بھی سرد کر دیا۔یعنی بجائے اس کے کہ دوزخ کی آگ اسے جلاتی خادموں کی طرح آرام دہ ہوجاوے گی۔عادت اللہ یہی ہے کہ دو ناریں(دو آگ) ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔محبت الٰہی بھی ایک نار ہے اور طاعون کو بھی نار لکھا ہے۔لیکن ان میں سے ایک تو عذاب ہے اور دوسری انعام ہے، اسی لیے طاعون کی نار کی ایک خاص خصوصیت خدا تعالیٰ نے رکھی ہے۔اس میں آگ کو جو غلام کہا گیا ہے میرا مذہب اس کے متعلق یہ ہے کہ اسماء اور اعلام کو ان کے اشتقاق سے لینا چاہیے۔غلام غلمہ سے نکلا ہے جس کے معنے ہیں کسی شَے کی خواہش کے واسطے نہایت درجہ کا مضطرب ہونا یا ایسی خواہش جو کہ حد سے تجاوز کر جاتی ہے اور انسان پھر اس سے بیقرار ہوجاتا ہے اور اسی لیے غلام کا لفظ اس وقت صادق آتا ہے جب انسان کے اندر نکاح کی خواہش جوش مارتی ہے پس طاعون کا غلام اور غلاموں کی غلام کے بھی یہی معنے ہیں کہ جو شخص ہم سے ایک ایسا تعلق اور جوڑ پیدا کرتا ہے جو کہ صدق و وفا کے تعلقات کے ساتھ حد سے تجاوز ہوا ہو اور کسی قسم کی جدائی اور دوئی اس کے رگ و ریشہ میں نہ پائی جاتی ہو اسے وہ ہرگز کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی اور جو ہمارا مرید الٰہی محبت کی آگ سے جلتا ہوگا اور خدا کو حقیقی طور پر پالینے کی خواہش کمال درجہ پر اس کے سینہ میں شعلہ زن ہوگی اسی پر بیعت کا لفظ حقیقی طور پر صادق آوے گا یہاں تک کہ کسی قسم کے ابتلا کے نیچے آکر وہ ہرگز متزلزل نہ ہو بلکہ اور قدم آگے بڑھاوے۔لیکن جبکہ لوگ ابھی تک اس حقیقت سے واقف نہیں ہیں اور ذرا ذرا سی بات پر وہ ابتلا میں آجاتے ہیں اور اعتراض کرنے لگتے ہیں تو پھر وہ اس آگ سے کس طرح محفوظ رہ سکتے ہیں۔