ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 160 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 160

غور کرے گا تو اس کا دل بول اُٹھے گا کہ یہ انسانی طاقت سے باہر ہے کہ ایسے جلیل القدر نشان دکھا سکے لیکن ان کتابوں کو دیکھا نہیں جاتا اور تقویٰ سے کام نہیں لیا جاتا پھر شوخی سے کہا جاتا ہے کہ نشان دکھا ئو اگر یہ ضروری ہوتا کہ ہر شخص کے لیے ایک جُدا نشان ہو اور پھر ایک لمبا اور لا انتہا سلسلہ شروع ہو جاوے۔ہر ایک شخص آکر کہے کہ پہلا نشان میرے لیے کافی نہیں ہے۔مجھے کوئی اور نشان دکھایا جاوے۔جو اس قسم کی جرأت کرتا ہے وہ خدا تعالیٰ کو آزماتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ اس کے لئے ہدایت بھی نہیں ہے کیونکہ اس سے صریح بُو آتی ہے کہ خدا کے پہلے نشانوں کو وہ حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے۔نشانوں کی ایک حد ہوتی ہے اور ان کی شناخت کے لیے ایک قوتِ شامہ دی جاتی ہے جو وہ قوت نہیںرکھتا ہے جس سے اس کو پہچانے اس کے سامنے خواہ کتنے ہی نشان ظاہر ہوں وہ کوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔اسلام کی سچائی پر یوں تو ہر زمانہ میں لاکھوں تازہ بہ تازہ نشان ہوتے ہیں مگر کیا یہ نشان بجائے خود کم ہے کہ جس توحید کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں اور جس شرک وبدعت کو آپ نے دور کیا ہے دنیا میں کبھی کسی مذہب نے نہیں کیا۔ایک عقلمند کے لیے تو یہ نشان ایسا عظیم الشّان ہے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی لیکن ایک غبی اس سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔اسلام کی سچائی پر یوں تو ہر زمانہ میں لاکھوں تازہ بتازہ نشان ہوتے ہیں مگر کیا یہ نشان بجائے خود کم ہے کہ جس توحید کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں اور جس شرک و بدعت کو آپ نے دور کیا ہے دنیا میں کبھی کسی مذہب نے نہیں کیا۔ایک عقل مند کے لئے تو یہ نشان ایسا عظیم الشّان ہے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی لیکن ایک غبی اس سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔مفتری مہلت نہیں پاسکتا ایک ولی اللہ ذات کے قصاب تھے ایک شخص ان کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میں تب مانتا ہوں اگر آپ کوئی نشان دکھائیں۔انہوں نے اس کو کیا عمدہ جواب دیا ہے کہ باوجودیکہ تیرا خیال ہے کہ ہم ایسے ہیں اور پھر باوصف ایسے گنہگار ہونے کے تُو دیکھتا ہے کہ ہم اب تک غرق نہیں ہو گئے۔اسی طرح پر ہم بھی کہتے ہیں کہ کیا