ملفوظات (جلد 6) — Page 154
غرض اعمالِ صالحہ بڑی چیز ہے۔قرآن شریف کو دیکھ لو جہاں ایمان کا ذکر کیا ہے اسے اعمالِ صالحہ سے وابستہ کیا ہے اس میں متوجہ ہو کہ خدا تعالیٰ راضی ہو جاوے جب تک یہ بات نہ ہو کچھ نہیں۔۱ ۲۹؍ اپریل ۱۹۰۴ء (بوقتِ شام) اَلطَّرِیْقَۃُ کُلُّھَا اَدَبٌ ایک شخص نو مسلم چکڑالوی کے خیالات کا متبع آیا ہوا تھا اس نے نشان دیکھنا چاہا حضر ت حجۃ اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کے سوال کو طریق ادب وطالب کے خلاف پا کر اسے حکم دیا تھا کہ تم واپس چلے جاؤ اس پر اس نے ایک معافی نا مہ پیش کیا اس پر حضرت حجۃ اللہ نے فرمایا۔یہ بات محض اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے کہ کوئی بات کسی کو سمجھا دے لیکن اسے سمجھ دیتا ہے جو ادب کے طریق پر سچا طالب ہو کر تلاش کرتا ہے اَلطَّرِیْقَۃُ کُلُّھَا اَدَبٌ۔خدا تعالیٰ کا یہ سچا وعدہ ہے کہ جو شخص صدقِ دل اور نیک نیتی کے ساتھ اس کی راہ کی تلاش کرتے ہیں وہ ان پر ہدایت ومعرفت کی راہیں کھول دیتا ہے جیسا کہ اس نے خود فرمایا ہے وَ الَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت:۷۰) یعنی جو لوگ ہم میں ہو کر مجاہدہ کرتے ہیں ہم ان پر اپنی راہیں کھول دیتے ہیں ہم میں ہو کر سے یہ مراد ہے کہ محض اخلاص اور نیک نیتی کی بنا پر خدا جُوئی اپنا مقصد رکھ کر لیکن اگر کوئی استہزا اور ٹھٹھے کے طریق پر آزمائش کرتا ہے وہ بدنصیب محروم رہ جاتا ہے پس اسی پاک اصول کی بنا پر اگرتم سچے دل سے کوشش کرو اور دعا کرتے رہو تو وہ غفور الرحیم ہے لیکن اگر کوئی اللہ تعالیٰ کی پروا نہیں کرتا وہ بے نیاز ہے۔صبر و استقلال کی ضرورت دنیا فناکا مقام ہے اس لیے ضروری ہے کہ انسان اس فانی مقام پر دلدادہ نہ ہو بلکہ آخرت کی فکر کرے جو اَبدی ہے اور یہ اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لاوے اور اس کی مرضی کو مقدم کرکے اس پر چلے اگر اللہ تعالیٰ کی مرضی کومقدم نہیں کرتا اور اس پر نہیں چلتا تو پھر اللہ تعالیٰ اس کی کوئی پروا نہیں کرتا جیسے