ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 153 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 153

بکری بھی منہ مارکر اسے کھا سکتی ہے پھر اگر وہ اس سے بچے تو مختلف قسم کی آندھیاں اس پر چلتی ہیں اور اس کو اکھاڑنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اگر وہ ان میں بھی بچ رہے تو پھر کہیں جا کر اسے پھول لگتے ہیں اور پھر وہ پھول بھی ہوا سے گرتے ہیں اور کچھ بچتے ہیں آخر الا مر پھل لگتا ہے اور اس پر بھی بہت سی آفتیں آتی ہیں کچھ یونہی گر جاتے ہیں اور کچھ آندھیوں میں تباہ ہوتے ہیں۱ جو پکتے ہیں اور کھانے کے کام آتے ہیں۔اسی طرح پر ایمانی درخت کا حال ہے اس سے پھل کھانے کے لیے بھی بہت سی صعوبتیںاور مشکلات میں ثابت قدم رہنا ضروری ہے۔صوفی بھی اسی لیے کہتے ہیں کہ جب تک موت نہ آوے زندگی حاصل نہیں ہوتی۔قرآنِ شریف نے صحابہؓ کی تعر یف کرتے ہوئے فرمایا ہے مِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ(الاحزاب:۲۴) یعنی بعض صحابہؓ میں سے ایسے ہیں جو اپنی جان دے چکے ہیں اور بعض ابھی منتظر ہیں۔جب تک اس مقام پر انسان نہیں پہنچتا بامراد نہیں ہوسکتا۔دو قسم کے آدمی دراصل جان سلامت لے جاتے ہیں ایک وہ جودین العجائز رکھتے ہیں یعنی جیسے ایک بڑھیا عورت ایمان لاتی ہے کہ اللہ ایک، محمدؐ برحق ہے وہ اسرارِ شریعت کی تہہ تک پہنچنے کی ضرورت نہیں سمجھتی ہے۔اور ایک وہ لوگ ہوتے ہیں جو سلوک کی راہ اختیار کرتے ہیں بڑے بڑے خونخوار دشت وبیابان ان کی راہ میں آتے ہیں مگر وہ ہزاروں مو تیں برداشت کرکے پہنچ جاتا ہے اس کی جوانمردی اور ہمّت قابلِ تعریف ہے۔لیکن ایک اَور گروہ ہوتا ہے جو نہ تو دین العجائز اختیار کرتا ہے اور نہ اس راہ کو اختیار کرکے انجام تک پہنچا تا ہے بلکہ اس دشت خونخوار میں پڑ کر راستہ ہی میں ہلاک ہو گیا۔ایسے لوگ وہی ہوتے ہیں جو مَکْرُ اللہ کے نیچے آجاتے ہیں غرض اس راہ کا طے کرنا بہت ہی مشکل ہے اس کے لیے چاہیے کہ دعا میں مشغول ہو اور قرآن شریف کو پڑھ کر دیکھتے رہو کہ آیا اس کے حکموں پر چلتے ہو یا نہیں۔جس حکم پر نہیں چلتے اس پر چلنے کے لیے مجاہدہ کرو اور خدا تعالیٰ سے دعا مانگو کہ اللہ تعالیٰ توفیق دے۔۱ الحکم میں آگے یہ الفاظ ہیں۔’’کچھ جانور کھا جاتے ہیں آخر تھوڑے ہوتے ہیں جو پکتے ہیں۔‘‘ (الحکم جلد۸ نمبر ۱۶ مورخہ ۱۷؍مئی ۱۹۰۴ءصفحہ ا)