ملفوظات (جلد 6) — Page 147
اب زمانہ ہے کہ فہم میں اسرار کھلتے جاویں جیسے آسمان سے آنے کا سرّ انہی ایّام میں کھلا ہے۔یہ زمانہ افترا کا نہیں ہوسکتا خدا پر افترا کرنا لعنتی کا کام ہوتا ہے۔کیا لوگ اتنا بھی خیال نہیں کرتے کہ اس قدر عرصہ دراز گذر گیا اور ہم کبھی الہام کے بیان کرنے سے فارغ نہیں رہے۔پس ممکن ہے کہ ایک آدمی ہر روز نیا افترا کرے اور خدا کو بھی علم ہو کہ وہ مفتری ہے اور وہ مہلت دے در حالیکہ اس کی زندگی میں ایک ایسا زمانہ بھی آتا ہے کہ ٹڈی کی طرح لوگ مَرتے جاتے ہیں۔چاروں طرف موتوں سے گھرے ہوئے ہیں۔کیا مفتری کی اتنی حفاظت ہو سکتی ہے۔کیا خدا کا فضل و کرم ایک مفتری کے اس طرح شاملِ حال ہوسکتا ہے۔کیا وہ یہ افترا کر سکتا ہے کہ اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ۔بات یہ ہے کہ بظاہر کتنے ہی مذاہب کیوں نہ ہوں لیکن اصل میں دہریت کی باریک رگ اپنا کام کر رہی ہے اگر دہریت نہ ہوتی تو یہ عیسائیت بھی اس قدر نہ پھیلتی۔گناہ تو درکنار اب تو خدا کے ساتھ مقابلہ ہے۔ایک مذنب بھی کبھی اپنے کئے پر پشیمان ہوتا ہے۔لیکن یہ لوگ خطا پر خطا کرتے ہیں اور پشیمانی پاس نہیں پھٹکتی۔اسی کا نام دہریت ہے۔۱ ۲۱؍ اپریل ۱۹۰۴ء (دربار شام) وبائوں کا عذاب جب دنیا میں فسق و فجور پھیل جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے لوگ دور جا پڑتے ہیں اور اس سے لاپروا ہو جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بھی ا ن کی پروا نہیں کرتا ہے ایسی صورت میں پھر اس قسم کی وبائیں بطورعذاب نازل ہوتی ہیں ان بَلائوں اور وبائوںکے بھیجنے سے اللہ تعالیٰ کی غرض یہ ہوتی ہے کہ دنیاپر اللہ تعالیٰ کی توحید اور عظمت ظاہر ہو اور فسق وفجور سے لوگ نفرت کرکے نیکی اور را ستبازی کی طرف توجہ کریں اور خدا تعالیٰ کے مامور کی طرف جو اس