ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 143 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 143

احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی اپنی مدح بھی سن لیا کرتے تھے لیکن اس سے یہ سمجھ لیناکہ آپ کو اس مدح کی پروا ہوتی تھی سخت غلطی ہے آپ کوان باتوں کا کوئی احساس نہیں ہوتا تھا اور کوئی اثر اس کا آپ پر نہیں ہوسکتا تھا۔ایک محلِ مدح ایسا ہوتا ہے کہ دوسرے کو ہلاک کر دیتا ہے لیکن آپ کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ وہ تعلق اور رشتہ تھا کہ کسی دوسرے کی سمجھ میں بھی نہیں آسکتا تھا پس آپ کسی انسان کی مدح سے کیا خوش ہوسکتے تھے۔ایسا ہی ذم کاحال ہے آپ تو اللہ تعالیٰ کی محبت ِذاتی میں فناہو چکے تھے خارجی احساس باقی ہی نہیں رہا تھا اس لیے سارے مقام ختم چکے تھے۔اصل بات یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جومقامِ امن کہلاتا ہے زاہد خشک کی مدح کرنے والا اس کو ہلاک کرسکتا ہے کیونکہ وہ اس مدح سے خوش ہو کر اپنے وجود کو بھی کوئی شَے سمجھنے لگتا ہے اور اپنے اعمال پر ایک ناز کرنے لگتا ہے مگر یاد رکھو کہ یہ مراتب بھی وہبی ہیں کوشش سے نہیں ملتے اورانسان کامل اسی مقام پر ہوتا ہے۔صوفی کہتے ہیں کہ جب تک محبت ِذاتی نہ ہو جاوے ایسی محبت کہ بہشت اور دوزخ پر بھی نظر نہ ہو اس وقت تک کامل نہیں ہوتا اس سے پہلے اس کا خدا بہشت اور دوزخ ہوتے ہیں لیکن جب وہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو پھر اس کے لیےاِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ(حٰمٓ السَّجدۃ:۴۱) کا حکم ہوتا ہے کیونکہ ان کی رضا خدا کی رضا ہوتی ہے جب تک یہ حال نہ ہو اندیشہ ہوتا ہے کہ نیکی ضائع نہ ہو جاوے۔ذاتی محبت والے سے اگر اس کی غرض پوچھی جاوے کہ تو کیوں خدا کی عبادت کرتا ہے تووہ کچھ بھی بتا نہیں سکتا کیونکہ اسے کوئی ذاتی غرض محسوس ہی نہیں ہوتی بلکہ اگر اس کے لیے دوزخ کی وعید بھی ہو کہ تواگر عبادت کرے گا تودوزخ ملے گا تب بھی وہ رک نہیں سکتا کیونکہ اس کے رگ وریشہ میں اللہ تعالیٰ ہی کی عظمت اور محبت ہوتی ہے وہ بے اختیار ہو کر اس کی طرف کھچا چلا جاتا ہے اسے نہیں معلوم کہ کیوں کھچا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ نہ وہ ثواب وعذاب کی پروا کرتا ہے اور نہ مدح وذمّ کا اثر اس پر ہوتا ہے انبیاء ورسل اسی مقام پر ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کی مخالفت اور خطرناک مصائب اور مشکلات ان کو اپنے کام سے ہٹا نہیں سکتے۔میں اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں اس مقام کو سمجھتا ہوں۔یہ ایسا دارالامان ہے کہ شیطان اس جگہ نہیں آسکتا ایک زاہد بعض وقت مغضوب کے زُمرہ میں آسکتا ہے لیکن