ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 144 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 144

جو اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے مقام پر پہنچ گیا وہ محفوظ ہو گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ محبت ِذاتی کی آگ غیر کے وجود کو مطلقاً جلا دیتی ہے اور اس کو امن میں داخل کر دیتی ہے استجابتِ دعا بھی اسی مقام پر ہوتا ہے یہ ایسا اَرفع اور اعلیٰ مقام ہے کہ اس کی تصریح بھی نہیں ہوسکتی یہ ایک کیفیت ہے جو دوسرے کو اچھی طرح سمجھا بھی نہیں سکتے۔یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے گِلہ کر نے سے بھی انسان کافر ہو جاتا ہے چونکہ وہ ان تعلقات سے محض نا آشنا ہوتا ہے جو انبیاء ورسل اور اللہ تعالیٰ میں ہوتے ہیں اس لیے کسی ایسے اَمر کو جو ہماری سمجھ اور دانش سے بالا تر اور بالا تر ہے، اپنی عقل کے پیمانہ سے نا پنا صریح حماقت ہے مثلاً آدم علیہ السلام کا گلہ کرنے لگے کہ انہوں نے درخت ِممنوع کا پھل کھایا۔یا عَبَسَ وَ تَوَلّٰى کو لے بیٹھے۔ایسی حرکت آداب الرسل کے خلاف ہے اور کفر کی حد تک پہنچا دیتی ہے۔چونکہ خدا تعالیٰ ان کا محبوب ہوتا ہے بعض اوقات وہ کسی بات پر گویا روٹھ جاتا ہے۔وہ باتیں عام قانون جرائم و ذنوب سے الگ ہوتی ہیں۔۳۰ سال کے قریب کا عرصہ ہوتا ہے کہ ایک مقرب فرشتہ کو میں نے دیکھا جس نے مجھے ایک توت کی چھڑی ماری۔پھر میں نے اس کو دیکھا کہ کرسی پر بیٹھ کر رونے لگا۔یہ ایک نسبت بتائی ہے کہ جیسے بعض اوقات والدہ بچہ کو مارتی ہے پھر رقّت سے خود ہی رونے لگتی ہے یہ ایک لطیف استعارہ ہے جو مجھ پر ظاہر کیا گیا ہے۔نبی اور خدا کا تعلق میری سمجھ میں بھی نہیں آتا کہ ان تعلقات کوجو انبیاء ورسل اور اللہ تعالیٰ میں ہوتے ہیں کس طرح ظاہر کیا جاوے۔یہ تعلقات ایسے شدید اور گہرے ہوتے ہیں کہ بجز کامل الایمان ہونے اور اس کو چہ سے آشنا ہونے کے ان کی سمجھ آہی نہیں سکتی۔اس لیے صوفیوں نے لکھا ہے کہ ان کے افعال اور اعمال عام قانون جرائم وذنوب سے الگ ہوتے ہیں ان کو اس ضمن ذنوب میں ذکر کرنا بھی سلبِ ایمان کا موجب ہوجاتا ہے کیونکہ ان کا حساب تعلقات کا ہے ذنبِ محمدی کی کیفیت کو کوئی کیا سمجھ سکتا ہے؟ عام طور پر عاشق و معشوق کے تعلقات کو کوئی نہیں سمجھ سکتا اور یہ تعلقات تو اس سے بھی لطیف تر ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا استغفار احمق حقیقت سے ناآشنا استغفار کے لفظ پر اعتراض کرتے ہیں ان کو معلوم نہیں کہ جس قدر