ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 142 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 142

ضروری ہے کہ عملِ صالح میں بھی کسی قسم کا فساد نہ ہو یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو اورپھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت کے موافق ہو اور پھر نہ اس میں کسی قسم کا کسل ہو، نہ عُجب ہو، نہ ریا ہو، نہ وہ اپنی تجویز سے ہو، جب ایسا عمل ہو تو وہ عملِ صالح کہلاتا ہے اور یہ کبریتِ احمر ہے۔شیطان سے بچنا شیطان انسان کو گمراہ کرنے کے لیے اور اس کے اعمال کو فاسد بنانے کے واسطے ہمیشہ تاک میں لگا رہتا ہے۔یہاں تک کہ وہ نیکی کے کاموں میں بھی اس کو گمراہ کرنا چاہتا ہے اور کسی نہ کسی قسم کا فساد ڈالنے کی تدبیریں کرتا ہے۔نماز پڑ ھتا ہے تو اس میں بھی رِیاوغیرہ کوئی شعبہ فساد کاملا ناچاہتا ہے۔ایک امامت کرانے والے کو بھی اس بَلا میں مبتلا کرنا چاہتا ہے پس اس کے حملہ سے کبھی بے خوف نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس کے حملے فاسقوں فاجروں پر تو کھلے کھلے ہوتے ہیں وہ تو اس کا گویا شکار ہیں لیکن زاہدوں پر بھی حملہ کرنے سے وہ نہیں چوکتا اور کسی نہ کسی رنگ میں موقع پاکر ان پر بھی حملہ کر بیٹھتا ہے۔جولوگ خدا کے فضل کے نیچے ہوتے ہیں اور شیطان کی باریک در باریک شرارتوں سے آگا ہ ہوتے ہیں وہ تو بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہیں لیکن جو ابھی خام اور کمزور ہوتے ہیں وہ کبھی کبھی مبتلا ہو جاتے ہیں۔ریا اور عُجب وغیرہ سے بچنے کے واسطے ایک ملامتی فرقہ ہے جواپنی نیکیوں کو چھپاتا ہے اور سیّئات کو ظاہر کرتا رہتا ہے وہ اس طرح پرسمجھتے ہیں کہ ہم شیطان کے حملوں سے بچ جاتے ہیں مگر میرے نزدیک وہ بھی کامل نہیں ہیں۔ان کے دل میں بھی غیر ہے اگر غیر نہ ہوتا تو وہ کبھی ایسا نہ کرتے۔انسان معرفت اور سلوک میں اس وقت کامل ہوتا ہے جب کسی نوع اور رنگ کا غیر ان کے دل میں نہ رہے اور یہ فرقہ انبیاء علیہم السلام کا ہوتا ہے یہ ایسا کامل گروہ ہوتا ہے کہ اس کے دل میں غیر کا وجود بالکل معدوم ہوتا ہے۔محبت ذاتی کا مقام اصل بات یہ ہے کہ غیر کے وجود کو کالعدم سمجھنا یہ بھی اختیار ی نہیں ہے کیونکہ یہ حالت عشقیہ ہے جو از خود پیدا نہیں ہوسکتی بلکہ اس کی جڑمحبت ذاتی ہے جب محبت ذاتی کے مقام پر انسان پہنچتا ہے تو پھر یہ عشقیہ حالت پیدا ہو کر غیر کے وجود کو جلا دیتی ہے اور پھر کسی کے مدح وذم یاعذاب وثواب کی بھی پروا نہیں ہوتی۔