ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 138 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 138

ان کی موت کو موت نہیں سمجھا جاتا تھا اور آخر نتیجہ یہ نکلتا کہ کوئی صحابی فوت نہیں ہوا کیونکہ انجام پر ان کی تعداد بہت بڑھ گئی جس سے فوت شدہ کی تعداد کو کوئی مناسبت ہی نہ رہی۔موت سے مطلب یہ ہوتا ہے کہ جماعت کم ہو اور جب جماعت زیادہ ہو جاوے تو پھر اس کا نام موت کیسے ہوا۔دیکھ لو کہ معترض کافر تو عرب میںکوئی نہ رہا۔سب مَر کھپ گئے لیکن سب عرب صحابیوں سے بھر گیا۔اسی طرح انجام پر دیکھ لینا کہ ہمیں کس قدر کامیابی ہوتی ہے۔۱ ۱۹؍اپریل ۱۹۰۴ء ایک رؤیا کے بعد الہام ہوا مَنْ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا (اس الہام کو سناتے وقت حضور نے فرمایا کہ) دیکھو اس مسجد پر بھی یہی الہام لکھا ہوا ہے جو ۲۵ برس کے قریب کا ہے۔۱۹؍اپریل کو فرمایا کہ میں اپنی جماعت کے لیے اور پھر قادیان کے لیے دعا کر رہا تھا تو یہ الہام ہوا زندگی کے فیشن سے دور جا پڑے ہیں فَسَحِّقْھُمْ تَسْحِیْقًا۔پس پیس ڈال ان کو خوب پیس ڈالنا۔فرمایا میرے دل میں آیا کہ اس پیس ڈالنے کو میری طرف کیوں منسوب کیا گیا ہے اتنے میں میری نظر اس دعا پر پڑی جو ایک سال ہوا بیت الدعا پر لکھی ہوئی ہے اور وہ دعا یہ ہے۔یَارَبِّ فَاسْـمَعْ دُعَائِیْ وَمَزِّقْ اَعْدَآءَکَ وَ اَعْدَائِیْ وَ اَنْـجِزْ وَعْدَکَ وَانْصُـرْ عَبْدَکَ وَاَرِنَا اَیَّامَکَ وَشَھِّرْلَنَا حِسَامَکَ وَلَا تَذَرْ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ شَـرِیْرًا۔اس دعا کو دیکھنے اور اس الہام کے ہونے سے معلوم ہوا کہ یہ میری دعا کی قبولیت کا وقت ہے۔پھر فرمایا کہ ہمیشہ سے سنّت اللہ اسی طرح پر چلی آتی ہے کہ اس کے ماموروں کی راہ میں جو لوگ روک ہوتے ہیں ان کو ہٹا دیا کرتا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کے بڑے فضل کے دن ہیں ان کو دیکھ کر خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایمان اور یقین بڑھتا ہے کہ وہ کس طرح ان امور کو ظاہر کر رہا ہے۔