ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 137 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 137

سے بہت سے زہریلے امراض کا دفعیہ ہوتا رہتا ہے مسجد میں بھی دھونی دی جاتی تھی۔نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر روز اپنے کپڑوں کو تین بار عُود کی دھونی دے لیتے تھے۔ایسے ہی حدیث شریف میں ہے کہ راتوں کو پانی کے برتن ڈھک رکھو اگر ڈھکنا نہ ہو تو ایک لکڑی ہی بسم اللہ کہہ کر برتن پر رکھ دو۔اور ہر ایک کام کو بسم اللہ کہہ کر شروع کرو۔مگر آج کل ان باتوں پر عمل تو کیا ہنسی اور تمسخر کیا جاتا ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ اب تو یہ حال ہے کہ جمعہ کے دن بھی خوشبو وغیرہ نہیں لگاتے۔تربد یا کسٹرائل پر جس قدر ایمان ہے اتنا بسم اللہ پر نہیں ہے۔جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ظہر کی نماز پڑھ کر تشریف لے جا رہے تھے کہ آپ کا ذہن مبارک طاعون کے علاج کی طرف منتقل ہوا اور اَلْخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ۠ کو مدّ ِنظر رکھ کر آپ نے تجویز فرمایا کہ آتشک وغیرہ کے زہر کے لئے جو ادویہ سمّ الفار، دار چکتہ، رسکپور، شنگرف وغیرہ دی جاتی ہیں وہی طاعون میں استعمال کر کے تجربہ کیا جاوے۔چنانچہ حکیم نور الدین صاحب سے آپ نے ارشاد فرمایا کہ ان اشیاء کا جوہر اڑا کر اور کونین ملا کر گولیاں بنائی جاویں۔اور مریضوں پر تجربہ کیا جاوے۔ادویہ کے اجزا اور ترکیب کو حکیم نور الدین صاحب کی رائے پر چھوڑ دیا گیا۔یاد رہے کہ یہ نسخہ الہامی نہیں ہے۔۱ ۱۷؍اپریل ۱۹۰۴ء کامیابی کی موت کو موت نہیں کہا کرتے لوگوں کے اس اعتراض پر کہ احمدی لوگ کیوں طاعون سے مَرتے ہیں۔فرمایا کہ صحابہ (رضی اللہ عنہم) بھی جنگوں میں تلواروں سے قتل ہوتے تھے لیکن جب کامیابی ہوجاتی تو