ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 135 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 135

میں مَر گیا اور اس کی روح گداز ہو کر خدا کے آستانہ پر گر پڑی ہے اگر طبیعت میں قبض اور بد مزگی ہو تو اس کے لیے بھی دعا ہی کرنی چاہیے کہ الٰہی تو ہی اسے دور کر اور لذّت اور نور نازل فرما جس گھر میں اس قسم کی نماز ہو گی وہ گھر کبھی تباہ نہ ہوگا۔حدیث شریف میں ہے کہ اگر نوحؑ کے وقت میں یہ نماز ہوتی تو وہ قوم کبھی تباہ نہ ہوتی۔حج بھی انسان کے لیے مشروط ہے روزہ بھی مشروط ہے زکوٰۃ بھی مشروط ہے مگر نماز مشروط نہیں سب ایک سال میں ایک ایک دفعہ ہیں مگر اس کا حکم ہر روز پا نچ دفعہ ادا کرنے کا ہے اس لیے جب تک پوری پوری نماز نہ ہو گی تو وہ برکات بھی نہ ہوں گے جو اس سے حاصل ہوتے ہیں اور نہ اس بیعت کا کچھ فائدہ حاصل ہوگا۔اگر بھوک یا پیاس لگی ہو تو ایک لقمہ یا ایک گھونٹ سیری نہیں بخش سکتا پوری خوراک ہو گی تو تسکین ہو گی اسی طرح ناکارہ تقویٰ ہرگز کام نہ آوے گی۔خدا تعالیٰ انہیں سے محبت کرتا ہے جواس سے محبت کرتے ہیںلَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ (اٰلِ عمران:۹۳) کے یہ معنے ہیں کہ سب سے عزیز شَے جان ہے اگر موقع ہو تو وہ بھی خدا کی راہ میں دےدی جاوے۔نماز میں اپنے اوپر جو موت اختیار کرتا ہے وہ ہی بِرّ کو پہنچتا ہے۔۱ ۱۶؍اپریل ۱۹۰۴ء طاعون زدہ کی نماز جنازہ حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب نے ایک صاحب کا خط حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو سنایا۔جس میں راقم خط نے طاعون زدہ کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بارے میں استفسار کیا تھا۔نیز طاعون کے مریضوں سے ہمدردی اور خبر گیری کے متعلق آپ کا ارشاد چاہا تھا۔اس پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ جنازہ پڑھنا چاہیے اور ہمدردی بھی کرنی چاہیے لیکن شریعت کے حکم کے موافق اپنے بچاؤ کا بھی ضرور خیال رکھیں۔جنازہ کی نماز فرض کفایہ ہے۔اگر لوگ گھر بھر کا ایک آدمی بھی شامل ہو جاوے تو کافی ہے سب کی طرف سے ادا ہوجاتی ہے۔لیکن اگر کوئی ایسی میّت ہو کہ اس سے تعفّن اور