ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 6 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 6

کی پوجا کرتے تو کیا ہوتا؟ کیا آپ کو وہ اعلیٰ درجہ کے مراتب مل سکتے جواب ملے ہیں؟ کبھی نہیں۔پھر جبکہ ابراہیم علیہ السلام آپ کے بزرگ بھی تھے اور آپ نے ان کی قبر پر جا کر یا بیٹھ کر ان سے کچھ نہیں مانگا اور نہ کسی اور قبر پر جا کر آپؐنے اپنی کوئی حاجت پیش کی تو یہ کس قدر بیوقوفی اور بے دینی ہے کہ آج مسلمان قبروں پر جاکر ان سے مُرادیں مانگتے ہیں اور ان کی پوجا کرتے ہیں۔اگر قبروں سے کچھ مل سکتا تو اس کے لیے سب سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قبروں سے مانگتے۔مگر نہیں مُردہ اور زندہ میں جس قدر فرق ہے وہ بالکل ظاہر ہے۔بجُز خدا تعالیٰ کے اور کوئی مخلوق اور ہستی نہیں ہے جس کی طرف انسان توجہ کرے اور اس سے کچھ مانگے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ذات کے عاشقِ زار اور دیوانہ ہوئے اور پھر وہ پایا جو دنیا میں کبھی کسی کو نہیں ملا۔آپ کو اللہ تعالیٰ سے اس قدر محبت تھی کہ عام لوگ بھی کہا کرتے تھے کہ عَشِقَ مُـحَمَّدٌ عَلٰی رَبِّہٖ یعنی محمد اپنے ربّ پر عاشق ہو گیا۔صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت میں انبیاء علیہم السلام کوجو شرف مِلا اور جو نعمت حاصل ہوئی وہ اسی وجہ سے اور اگر کوئی پاسکتا ہے تو اسی ایک راہ سے پاسکتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا دامن پکڑا۔اور قوم اور برادری کی کچھ بھی پروا نہ کی۔خدا تعالیٰ نے بھی وہ وفا کی کہ ساری دنیا جانتی ہے۔جس مکہ سے آپ نکالے گئے تھے اسی مکہ میں ایک شہنشاہ کی شان اور حیثیت سے داخل ہوئے۔قوم اور برادری نے اپنی طرف سے کوئی دقیقہ ایذا رسانی کا باقی نہیں چھوڑا لیکن جب خدا ساتھ تھا وہ کچھ بھی بگاڑ نہ سکے۔میں یقیناً جانتا ہوں اور نبیوں اور رسولوں کی زندگی اس پر گواہ ہے کہ وہ چونکہ اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں اس لیے وہ نہیں مَرتے جب تک کہ ان کی مرادیں پُوری نہ ہو جائیں اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو لیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائوں کی قبولیّت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں دنیا کے لیے نہ تھیں بلکہ آپ کی دعائیں یہ تھیں کہ بُت پرستی دور ہو جاوے اور خدا تعالیٰ کی توحید قائم ہو اور یہ انقلاب ِعظیم میں دیکھ لوں کہ جہاں ہزاروں بُت پوجے جاتے ہیں وہاں ایک خدا کی پرستش ہو۔پھر تم خود ہی