ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 117 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 117

پڑھ لینا ہی اللہ تعالیٰ کا منشا نہیں وہ تو عمل چاہتا ہے اگر کوئی ہر روز تعزیرات ہند کی تلاوت تو کرتا رہے مگر ان قوانین کی پابندی نہ کرے بلکہ ان جرائم کو کرتا رہے اور رشوت وغیرہ لیتا رہے توایسا شخص جس وقت پکڑا جاوے گا تو کیا اس کا یہ عذر قابل سماعت ہوگا کہ میں ہر روز تعزیرات کو پڑھا کرتا ہوں یا اس کو زیادہ سزا ملے گی کہ تو نے باوجود علم کے پھر جُرم کیا ہے اس لیے ایک سال کی بجائے چار سال کی سزا ہونی چاہیے۔غرض نری باتیں کام نہ آئیں گی پس چاہیے کہ انسان پہلے اپنے آپ کو دکھ پہنچائے تا خدا تعالیٰ کو راضی کرے اگر وہ ایسا کرے گا تواللہ تعالیٰ اس کی عمر بڑھا دے گا اللہ تعالیٰ کے وعدوں میں تخلّف نہیں ہوتا اس نے جو وعدہ فرمایا ہے کہ اَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ (الرّعد:۱۸) یہ بالکل سچ ہے۔عام طور پر بھی یہی قاعدہ ہے کہ جو چیز نفع رساں ہواس کو کوئی ضائع نہیں کرتا یہاں تک کہ کوئی گھوڑا بیل یا گائے بکری اگر مفید ہو اور اس سے فائدہ پہنچتا ہو کون ہے جو اس کو ذبح کر ڈالے، لیکن جب وہ ناکارہ ہو جاتا ہے اور کسی کام نہیں آسکتا تو پھر اس کا آخر ی علاج وہی ذبح ہے اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اگر اور نہیں تو دو چار روپیہ کو کھال ہی بک جائے گی اور گو شت بھی کام آجائے گا اسی طرح پر جب انسان خدا تعالیٰ کی نظر میں کسی کام کا نہیں رہتا اور اس کے وجود سے کوئی فائدہ دوسرے لوگوں کو نہیں ہوتا تو پھر اللہ تعالیٰ اس کی پروا نہیں کرتا بلکہ خس کم جہاں پاک کے موافق اس کو ہلاک کر دیتا ہے غرض یہ اچھی طرح یادرکھو کہ نری لاف وگزاف اور زبانی قیل وقال کوئی فائدہ اور اثر نہیں رکھتی جب تک کہ اس کے ساتھ عمل نہ ہو اور ہاتھ پاؤں اور دوسرے اعضا سے نیک عمل نہ کئے جاویں جیسے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ شریف بھیج کر صحابہؓ سے خدمت لی۔کیا انہوں نے صرف اسی قدر کافی سمجھا تھا کہ قرآن کو زبان سے پڑھ لیا یا اس پر عمل کرنا ضروری سمجھا تھا؟ انہوں نے تو یہاں تک اطاعت و وفا داری دکھا ئی کہ بکریوں کی طرح ذبح ہو گئے اور پھر انہوں نے جو کچھ پایا اور خدا تعالیٰ نے ان کی جس قدر قدر کی وہ پوشیدہ بات نہیں ہے۔