ملفوظات (جلد 6) — Page 116
سے تمہارے بیوی بچے پرورش پاتے ہوں تو تم بھی اس کو ذبح کرنے کے لیے طیار نہیں ہو جاتے لیکن اگر وہ کچھ بھی دودھ نہ دے بلکہ نری چارہ دانہ کی چٹی ہو تو تم فوراً اس کوذبح کر لو گے۔اسی طرح پر جو آدمی اللہ تعالیٰ کا سچا فرمانبردار، نیک کام کرنے والا اور دوسروں کو نفع پہنچانے والا نہ ہو اس وقت تک خدا تعالیٰ اس کی پروا نہیں کرتا بلکہ وہ اس بکری کی طرح ذبح کے لائق ہوتا ہے جو دودھ نہیں دیتی ہے اس لیے ضرورت اس اَمر کی ہے کہ تم اپنے آپ کو مفید ثابت کرو اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے بندوں کو نفع پہنچاؤ۔اعمالِ صالحہ کی ضرورت انسان سمجھتا ہے کہ نرا زبان سے کلمہ پڑھ لینا ہی کافی ہے یا نرا اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ کہہ دینا ہی کافی ہے مگر یادرکھو زبانی لاف گزاف کافی نہیں ہے۔خواہ انسان زبان سے ہزار مرتبہ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ کہے یا سو مرتبہ ہر روز تسبیح پڑھے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ خدا نے انسان کو انسان بنایا ہے طوطا نہیں بنایا۔یہ طوطا کا کام ہے کہ وہ زبان سے تکرار کرتا رہے اور سمجھے خاک بھی نہیں۔انسان کا کام تویہ ہے کہ جو کچھ منہ سے کہتا ہے اس کو سوچ کر کہے اور پھر اس کے موافق عملدرآمد بھی کرے لیکن اگر طوطا کی طرح بولتا جاتا ہے تو یاد رکھو نری زبان سے کوئی برکت نہیں ہے جب تک دل اس کے ساتھ نہ ہو اور اس کے موافق اعمال نہ ہوں وہ نری باتیں سمجھی جائیں گی جن میں کوئی خوبی اور برکت نہیں کیونکہ وہ نرا قول ہے خواہ قرآن شریف اور استغفار ہی کیوں نہ پڑھتا ہو۔خدا تعالیٰ اعمال چاہتا ہے اس لیے بار بار یہی حکم دیا کہ اعمالِ صالحہ کرو جب تک یہ نہ ہو خدا کے نزدیک نہیں جا سکتے۔بعض نادان کہتے ہیں کہ آج ہم نے دن بھر میں قرآن ختم کر لیا ہے لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ اس سے کیا فائد ہ ہوا؟ نِری زبان سے تم نے کام لیا۔مگر باقی اعضا کو بالکل بیکار چھوڑ دیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمام اعضا اس لیے بنائے ہیں کہ ان سے کام لیا جاوے یہی وجہ ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ بعض لوگ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور قرآن ان پر لعنت کرتا ہے کیونکہ ان کی تلاوت نراقول ہی قول ہوتا ہے اور اس پر عمل نہیں ہوتا۔جو شخص اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود کے موافق اپنا چال چلن نہیں بناتا ہے وہ ہنسی کرتا ہے کیونکہ