ملفوظات (جلد 6) — Page 115
بچنا چاہیے۔گناہوں سے بچنا گناہوں سے بچنا یہ تو ادنیٰ سی بات ہے اس لیے انسان کو چاہیے کہ گناہوں سے بچ کر نیکی کرے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت کرے جب وہ گناہوں سے بچے گا اور خدا کی عبادت کرے گا تواس کا دل برکت سے بھر جائے گا اور یہی انسان کی زندگی کا مقصد ہے۔دیکھو اگر کسی کپڑے کو پاخانہ لگا ہوا ہو تو اس کو صرف دھوڈ النا ہی کوئی خوبی نہیں ہے بلکہ اسے چاہیے کہ پہلے اسے خوب صابن سے ہی دھوکر صاف کرے اور میل نکال کر اسے سفید کرے اور پھر اس کو خوشبو لگا کر معطّر کرے تاکہ جو کوئی اسے دیکھے خوش ہو اسی طرح پر انسان کے دل کا حال ہے وہ گناہوں کی گندگی سے نا پاک ہو رہا ہے اور گھنا ؤ نا اور متعفّن ہو جاتا ہے پس پہلے تو چاہیے کہ گناہ کے چرک کو توبہ واستغفار سے دھوڈالے اور خدا تعالیٰ سے توفیق مانگے کہ گناہوں سے بچتا رہے پھر اس کی بجائے ذکر الٰہی کرتا رہے اور اس سے اس کو بھرڈالے اس طرح پر سلوک کا کمال ہو جاتا ہے اور بغیر اس کے اس کی وہی مثال ہے کہ کپڑے سے صرف گندگی کو دھوڈالا ہے لیکن جب تک یہ حالت نہ ہو کہ دل کو ہر قسم کے اخلاقِ ردِّیہ و رذیلہ سے صاف کرکے خدا کی یاد کا عطر لگا وے اور اندر سے خوشبو آوے اس وقت تک خدا تعالیٰ کا شکوہ نہیں کرنا چاہیے لیکن جب اپنی حالت اس قسم کی بناتا ہے تو پھر شکوہ کا کوئی محل اور مقام ہی نہیں رہتا۔آج کل وبا کے دن ہیں اس لیے لا پروا نہیں ہونا چاہیے سچی تبدیلی کرنی چاہیے بہت سے آدمی اعتراض کر دیتے ہیں کہ فلاں شخص نے بیعت کی تھی وہ مَر گیا مگر یہ اعتراض فضول ہے کیا وہ نہیں جانتے کہ صحابہؓ بھی جنگوں میں شریک ہو کر شہید ہو جاتے تھے حالانکہ وہی جنگ مخالفوں کے لیے بطور عذاب تھی لیکن اس سے یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ بیعت کے بعد اعمال کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ بیعت کے بعد حجّت پوری ہو جاتی ہے پھر اگر اپنی اصلاح اور تبدیلی نہیں کرتا تو سخت جوابدہ ہے پس ضرورت اس بات کی ہے کہ سچے مسلمان بنو تاکہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں تمہاری کوئی قدروقیمت ہو جو چیز کار آمد ہوتی ہے اسی کی قدر کی جاتی ہے۔دیکھو! اگرتمہارے پاس ایک دودھ دینے والی بکری ہو جس