ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 114 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 114

وغیرہ یہ سب بداخلاقیاں ہیں جو انسان کو جہنم تک پہنچا دیتی ہیں انہی میں سے ایک گناہ جس کا نام تکبّر ہے شیطان نے کیا تھا یہ بھی ایک بد خُلقی ہی تھی جیسے لکھا ہے اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ(البقرۃ:۳۵) اور پھر اس کا نتیجہ کیا ہوا وہ مردودِ خلائق ٹھہرا اور ہمیشہ کے لیے لعنتی ہوا۔مگر یادرکھو کہ یہ تکبّر صرف شیطان ہی میں نہیں ہے بلکہ بہت ہیں جواپنے غریب بھائیوں پر تکبّر کرتے ہیں اور اس طرح پر بہت سی نیکیوں سے محروم رہ جاتے ہیں اور یہ تکبّر کئی طرح پر ہوتا ہے کبھی دولت کے سبب سے ،کبھی علم کے سبب سے اور کبھی حُسن کے سبب سے، کبھی نسب کے سبب سے غرض مختلف صورتوں سے تکبّر کرتے ہیں اور اس کا نتیجہ وہی محرومی ہے اور اسی طرح پر بہت سے بُرے خُلق ہوتے ہیں جن کا انسان کو کوئی علم نہیں ہوتا اس لیے کہ وہ کبھی ان پر غور نہیں کرتا اور نہ فکر کرتا ہے۔انہیں بداخلاقیوں میں سے ایک غصّہ بھی ہے۱ جب انسان اس بداخلاقی میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ دیکھے کہ اس کی نوبت کہاں تک پہنچ جاتی ہے وہ ایک دیوانہ کی طرح ہوتا ہے اس وقت جواس کے منہ میں آتا ہے کہہ گذرتا ہے اور گالی وغیرہ کی کوئی پروا نہیں کرتا۔اب دیکھو کہ اس ایک بد اخلاقی کے نتائج کیسے خطرناک ہو جاتے ہیں پھر ایسا ہی ایک حسدہے کہ انسان کسی کی حالت یا مال ودولت کو دیکھ کر کڑھتا اور جلتا ہے اور چاہتا ہے کہ یہ اس کے پاس نہ رہے اس سے بجز اس کے کہ وہ اپنی اخلاقی قوتوں کا خون کرتا ہے کوئی فائدہ نہیں اٹھاسکتا پھر ایک بداخلاقی بخل کی ہے باوجودیکہ خدا تعالیٰ نے اس کو مقدرت دی ہے مگر یہ انسانوں پر رحم نہیں کرتا ہمسایہ خواہ ننگا ہو بھوکا ہو مگر اس کو اس پر رحم نہیں آتا۔مسلمانوں کے حقوق کی پروا نہیں کرتا وہ بجز اس کے کہ دنیا میں مال ودولت جمع کرتا رہے اور کوئی کام دوسروں کی ہمدردی اور آرام کے لیے نہیںرکھتا حالانکہ اگر وہ چاہتا اور کوشش کرتا تواپنے قویٰ اور دولت سے دوسروں کو فائدہ پہنچا سکتا تھا مگر وہ اس بات کی فکر نہیں کرتا۔غرضیکہ طرح طرح کے گناہ ہیں جن سے بچنا ضروری ہے یہ تو موٹے موٹے گناہ ہیں جن کو گناہ ہی نہیں سمجھتا پھر زنا، چوری، خون وغیرہ بھی بڑے بڑے گناہ ہیں اور ہرقسم کے گناہوں سے