ملفوظات (جلد 6) — Page 112
دو قسم کے دکھ دنیا میں دو قسم کے دکھ ہوتے ہیں بعض دکھ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ان میں تسلّی دی جاتی ہے اور صبر کی توفیق ملتی ہے۔فرشتے سکینت کے ساتھ اترتے ہیں اس قسم کے دکھ نبیوں اور راست بازوں کو بھی ملتے ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور ابتلا آتے ہیں جیسا کہ اس نے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ (البقرۃ:۱۵۶) میں فرمایا ہے ان دکھوں کا انجام راحت ہوتا ہے اور درمیان میں بھی تکلیف نہیں ہوتی کیونکہ خدا کی طرف سے صبر اور سکینت ان کو دی جاتی ہے مگر دوسری قسم دکھ کی وہ ہے جس میں یہی نہیں کہ دکھ ہوتا ہے بلکہ اس میں صبر وثبات کھو یا جاتا ہے اس میں نہ انسان مَرتا ہے نہ جیتا ہے اور سخت مصیبت اور بَلا میں ہوتا ہے یہ شامت ِاعمال کا نتیجہ ہوتا ہے جس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ (الشورٰی:۳۱) اور اس قسم کے دکھوں سے بچنے کا یہی طریق اور علاج ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے کیونکہ دنیا کی زندگی چند روزہ ہے اور اس زندگی میں شیطان اس کی تاک میں لگا رہتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اس کو خدا سے دور پھینک دے اور نفس اس کو دھوکا دیتا رہتا ہے کہ ابھی بہت عرصہ تک زندہ رہنا ہے لیکن یہ بڑی بھاری غلطی ہے اگر انسان اس دھوکے میں آکر خدا تعالیٰ سے دور جاپڑے اور نیکیوں سے دستکش ہو جاوے۔موت ہر وقت قریب ہے اور یہی زندگی دارالعمل ہے مَرنے کے ساتھ ہی عمل کا دروازہ بند ہو جاتا ہے اور جس وقت یہ زندگی کے دَم پورے ہوئے پھر کوئی قدرت اور توفیق کسی عمل کی نہیں ملتی خواہ تم کتنی ہی کوشش کرو مگر خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کے واسطے کوئی عمل نہیں کرسکوگے اور ان گناہوں کی تلافی کا وقت جاتا رہے گا اور اس بدعملی کا نتیجہ آخر بھگتنا پڑے گا۔خوش قسمت کون ہے خوش قسمت وہ شخص نہیں ہے جس کو دنیا کی دولت ملے اور وہ اس دولت کے ذریعہ ہزاروں آفتوں اور مصیبتوں کا مورد بن جائے بلکہ خوش قسمت وہ ہے جس کو ایمان کی دولت ملے اور وہ خدا کی ناراضگی اور غضب سے ڈرتا رہے۱ اور ہمیشہ اپنے آپ کو نفس اور شیطان کے حملوں سے بچاتا رہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی رضا کو وہ اس طرح پر