ملفوظات (جلد 6) — Page 111
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۱ جلد ششم ہیں جیسا کہ اس نے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ (البقرة :۱۵۶) میں فرمایا ہے ان دکھوں کا انجام راحت ہوتا ہے اور درمیان میں بھی تکلیف نہیں ہوتی کیونکہ خدا کی طرف سے صبر اور سکینت ان کو دی جاتی ہے مگر دوسری قسم دکھ کی وہ ہے جس میں یہی نہیں کہ دکھ ہوتا ہے بلکہ اس میں صبر و ثبات کھویا جاتا ہے اس میں نہ انسان مرتا ہے نہ جیتا ہے اور سخت مصیبت اور بلا میں ہوتا ہے یہ شامت اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے جس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے مَا أَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمُ (الشوری: ۳۱) اور اس قسم کے دکھوں سے بچنے کا یہی طریق اور علاج ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے کیونکہ دنیا کی زندگی چند روزہ ہے اور اس زندگی میں شیطان اس کی تاک میں لگا رہتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اس کو خدا سے دور پھینک دے اور نفس اس کو دھوکا دیتا رہتا ہے کہ ابھی بہت عرصہ تک زندہ رہنا ہے لیکن یہ بڑی بھاری غلطی ہے اگر انسان اس دھوکے میں آ کر خدا تعالیٰ سے دور جا پڑے اور نیکیوں سے دستکش ہو جاوے۔ موت ہر وقت قریب ہے اور یہی زندگی دار العمل ہے مرنے کے ساتھ ہی عمل کا دروازہ بند ہو جاتا ہے اور جس وقت یہ زندگی کے دم پورے ہوئے پھر کوئی قدرت اور توفیق کسی عمل کی نہیں ملتی خواہ تم کتنی ہی کوشش کرو مگر خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کے واسطے کوئی عمل نہیں کر سکو گے اور ان گناہوں کی تلافی کا وقت جاتا رہے گا اور اس بد عملی کا نتیجہ آخر بھگتنا پڑے گا۔ خوش قسمت کون خوش قسمت وہ شخص نہیں ہے جس کو نیا کی دولت ملے اور وہ اس ت لون ہے دولت کے ذریعہ ہزاروں آفتوں اور مصیبتوں کا مورد بن جائے بلکہ ہے خوش قسمت وہ ہے جس کو ایمان کی دولت ملے اور وہ خدا کی ناراضگی اور غضب سے ڈرتا ر ہے ۔ اور ہمیشہ اپنے آپ کو نفس اور شیطان کے حملوں سے بچاتا رہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی رضا کو وہ اس طرح پر حاصل کرے گا۔ مگر یا درکھو کہ یہ بات یونہی حاصل نہیں ہو سکتی اس کے لیے ضروری ہے کہ تم نمازوں میں ل البدر سے ۔ اور وہ جان لیوے کہ خدا کی ناراضگی ایک جہنمی زندگی ہے ۔“ 66 البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶ مارچ ۱۹۰۴ صفحه (۶)