ملفوظات (جلد 6) — Page 109
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۹ سوال ۔ اور جن عورتوں کا مہر مچھر کی دومن چربی ہو وہ کیسے ادا کیا جاوے۔ جواب - لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ( البقرة : ۲۸۷) اس کا خیال مہر میں ضرور ہونا چاہیے خاوند کی حیثیت کو مد نظر رکھنا چاہیے اگر اس کی حیثیت دس روپے کی نہ ہو تو وہ ایک لاکھ کا مہر کیسے ادا کرے گا اور مچھروں کی چربی تو کوئی مہر ہی نہیں یہ لا يُكلف اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرۃ: ۲۸۷) میں داخل ہے ۔ سوال ۔ میت کے لیے فاتحہ خوانی کے لیے جو بیٹھتے ہیں اور فاتحہ پڑھتے ہیں۔ جواب ۔ یہ درست نہیں ہے بدعت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت نہیں کہ اس - طرح صف بچھا کر بیٹھتے اور فاتحہ خوانی کرتے تھے۔ لے ۱۶ مارچ ۱۹۰۴ء ( در بارشام ) نصیحت بعد البیعت ۱۶ مارچ ۶ ر مارچ ۱۹۰۴ء کی شام کو اعلیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دست مبارک پر چندا حباب نے بیعت کی جس پر حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے مندرجہ ذیل تقریر فرمائی ۔ (ایڈیٹر ) بیعت کو نبھائیں تم لوگوں نے اس وقت جو بیعت کی ہے اس کا زبان سے کہ دینا اور اقرار کر لینا تو بہت ہی آسان ہے مگر اس اقرارِ بیعت کا نبھانا اور اس پر عمل کرنا بہت ہی مشکل ہے کیونکہ نفس اور شیطان انسان کو دین سے لا پروا بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ دنیا اور اس کے فوائد کو آسان اور قریب دکھاتے ہیں لیکن قیامت کے معاملہ کو دور دکھاتے ہیں جس سے انسان سخت دل ہو جاتا ہے اور پچھلا حال پہلے سے بدتر بن جاتا ہے اس لیے یہ بہت ہی ضروری امر ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کو راضی کرنا ہے تو جہاں تک کوشش ہو سکے ساری ہمت اور توجہ سے اس اقرار کو نبھانا چاہیے اور گناہوں سے بچنے کے لیے کوشش کرتے رہو۔ ل البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶ مارچ ۱۹۰۴ ء صفحه ۶،۵