ملفوظات (جلد 6) — Page 105
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۵ سوال ۲ ۔ جبکہ غائب اور حاضر دونوں کو خطاب کر لیتے ہیں پھر اس میں کیا حرج ہے؟ جواب ۔ دیکھو بٹالہ میں لوگ زندہ موجود ہیں اگر ان کو یہاں سے آواز دو تو کیا وہ کوئی جواب دیتا ہے پھر بغداد میں سید عبدالقادر جیلانی کی قبر پر جا کر آواز دو تو کوئی جواب نہیں آئے گا۔ خدا تعالیٰ تو جواب دیتا ہے جیسا فرما یا ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُم (المؤمن : ۶۱) مگر قبروں والوں میں سے کون جواب دیتا ہے پھر کیوں ایسا فعل کرے جو تو حید کے خلاف ہے۔ سوال ۳۔ جب کہ یہ لوگ زندہ ہیں پھر ان کو مردہ تو نہیں کہہ سکتے ؟ جواب ۔ زندگی ایک الگ امر ہے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہماری آواز بھی سن لیں۔ یہ ہم مانتے ہیں کہ یہ لوگ خدا کے نزدیک زندہ ہیں مگر ہم نہیں مان سکتے کہ ان کو سماع کی قوت بھی ہے حاضر ناظر ہونا ایک الگ صفت ہے جو خدا ہی کو حاصل ہے دیکھو ہم بھی زندہ ہیں مگر لاہور یا امرتسر کی آوازیں نہیں سن سکتے ۔ خدا تعالیٰ کے شہید اور اولیاء اللہ بے شک خدا کے نزدیک زندہ ہوتے ہیں مگر ان کو حاضر ناظر نہیں کہہ سکتے ۔ دعاؤں کے سننے والا اور قدرت رکھنے والا خدا ہی ہے اس کو یقین کرنا یہی اسلام ہے جو اس کو چھوڑتا ہے وہ اسلام کو چھوڑتا ہے پھر کس قدر قابل شرم یہ امر ہے کہ یا شیخ عبدالقادر جیلانی تو کہتے ہیں یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، یا ابابکر، یا عم نہیں کہتے البتہ یا علی کہنے والے ان کے بھائی موجود ہیں۔ یہ شرک ہے کہ ایک تخصیص بلا وجہ کی جاوے۔ جب خدا کے سوا کسی چیز کی محبت بڑھ جاتی ہے تو پھر انسان صمَّ وَ بُکھ ہو جاتا ہے جو اسلام کے خلاف ہے۔ اسلام توحید کے لیے آیا ہے جب توحید کے خلاف چلے تو پھر مسلمان کیسا ؟ تعجب کی بات ہے کہ جن لوگوں کو یہ خدا کا حصہ دار بناتے ہیں خود ان کو بھی یہ مقام توحید ہی کے ماننے سے ملا تھا۔ اگر وہ بھی ایسے ” یا “ کہنے والے ہوتے تو ان کو یہ مقام ہرگز نہ ملتا بلکہ انہوں نے خدائے تعالیٰ کی اطاعت اختیار کی تب یہ رتبہ ان کو ملا ۔ یہ لوگ شیعوں اور عیسائیوں کی طرح ایک قسم کا شرک کرتے ہیں ۔ لے الحکم جلد ۸ نمبر ۸ مورخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۴ ء صفحه ۱۲