ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 103

خوب جان لے کہ وہ سچا مسلم نہیں ہے۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ بے حد اطاعت ہو اور پوری عبودیت کا نمونہ دکھاوے یہاں تک کہ آخری امانت جان بھی دے دے اگر بخل کرتا ہے تو پھر سچامومن اور مسلم کیسے ٹھہر سکتا ہے لیکن اگر وہ جانبازی کرنے والا ہے تو پھر خدا تعالیٰ کو بڑا ہی پیارا اور محبوب ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہو جاتا ہے۔صحابہؓ نے یہی کیا۔انہوں نے اپنی جان کی پروا نہ کی۱ اور اپنے خون بہا دئیے۔شہید بھی وہی ہوتا ہے جوجان دینے کا قصد کرتا ہے اگریہ نہیں تو پھر کچھ نہیں۔یہ چند کلمے ناگہانی آفات سے بچنے اور سچا مسلم بننے کے لیے ہیں اور اگر انسان ان پر عمل کرے تو طاعون سے بچانے کا یہ بھی ایک ذریعہ ہیں۔بَلاؤں کے نزول کے وقت دعاؤں میں لگے رہیں یادرکھو قہر ِالٰہی کو کوئی روک نہیں سکتا وہ سخت چیز ہے خبیث قوموں پر جب نازل ہوا ہے تو وہ تباہ ہو گئی ہیں اس قہر سے ہمیشہ کامل ایمان بچاسکتا ہے ناقص ایمان بچا نہیں سکتا بلکہ کامل ایمان ہو تو دعائیں بھی قبول ہوتی ہیں اور اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ(المؤمن:ـ۶۱) خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے جو خلاف نہیں ہوتا کیونکہ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ( اٰل عـمران:۱۰)اس کا فرمان ہے۔پس ایسے وقت میں کہ آفت نازل ہو رہی ہے ایک تو یہ چاہیے کہ دعائیں کرتے رہیں۔۲ دوسرے صغائرکبائرسے جہاں تک ممکن ہو بچتے رہیں تدبیروں اور دعاؤں میں لگے رہیں گناہ کا زہر بڑا ۱ البدر سےـ۔’’انسان کی ضرورتوں اور خواہشوں کی تو کوئی حدنہیں اور بعض لوگ انہی کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں اور ان کو خدا کو راضی کر نے اور گناہ سے بچنے کی دعا کا موقع ہی نہیں پیش آتا لیکن اصل بات یہ ہے کہ دنیا کے لیے جو دعا کی جاتی ہے وہ جہنم ہے دعا صرف خدا کو راضی کر نے اور گناہوں سے بچنے کی ہو نی چاہیے باقی جتنی دعائیں ہیں وہ خود اس کے اندر آجاتی ہیں۔‘‘ (البدر جلد۳نمبر۱۱ مورخہ ۱۶؍مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۴) ۲ البدر سے۔’’ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ بڑی دعا ہے صراط مستقیم گویا خدا کو شناخت کرتا ہے اور اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کل گناہوں سے بچتا ہے اور صالحین میں داخل ہوتا ہے۔‘‘ (البدر جلد۳نمبر۱۱ مورخہ ۱۶؍مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۴)