ملفوظات (جلد 6) — Page 97
ہے اسے نامراد نہیںرکھتا۔اللہ تعالیٰ کی صفتِ قادرو کریم کا اقتضا اللہ تعالیٰ کی دو صفتیں بڑی قابلِ غور ہیں اور ان صفات پر ایمان لانے سے بھی امید وسیع ہوتی اور مومن کا یقین زیادہ ہوتا ہے۔وہ صفات اس کے قادر اور کریم ہونے کے ہیں جب تک یہ دونوں باتیں نہ ہوں کوئی فیض نہیں ملتا ہے۔دیکھو اگر کوئی شخص کریم تو ہو اور اس کے پاس ہو تو ہزاروں روپیہ دے دینے میں بھی اسے تامل اور دریغ نہ ہو لیکن اس کے گھر میں کچھ بھی نہ ہو تو اس کی صفتِ کریمی کاکیا فائدہ یا اس کے پاس روپیہ تو بہت ہو مگر کریم نہ ہو پھر اس سے کیا حاصل؟ مگر خدا تعالیٰ میں یہ دونوں باتیں ہیں۔وہ قادر ہے اور کریم بھی ہے اور دونوں صفتوں میں بھی وہ وحدہ لا شریک ہے۔پس جب ایسی قادر اور کریم ذات کے ساتھ کوئی کامل تعلق پیدا کرے تو اس سے بڑھ کر خوش قسمت کون ہوگا؟بڑا ہی مبارک اور خوش قسمت ہے وہ شخص جو اس کا فیصلہ کرے۔سرمد نے کیا اچھا کہا ہے۔؎ سرمد گلہ اختصار می باید کرد یک کار ازیں دوکار می باید کرد یاتن برضائے یار می باید کرد یا قطع نظر ز یار می باید کرد حقیقت میں اس نے سچ کہا ہے۔بیمار اگر طبیب کی پوری اطاعت نہیں کرتا تو اس سے کیا فائدہ؟ایک عارضہ نہیں تو دوسرا اس کو لگ جاوے گا اور وہ اس طرح پر تباہ اور ہلاک ہوگا۔دنیا میں اس قدر آفتوں سے انسان گھرا ہوا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہی کا فضل اس کے شاملِ حال نہ ہو اور اس کے ساتھ سچا تعلق نہ ہو تو پھر سخت خطرہ کی حالت ہے۔پنجابی میں بھی ایک مصرعہ مشہور ہے۔ع جے توں میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو یہ مَنْ کَانَ لِلّٰہِ کَانَ اللّٰہُ لَہٗ ہی کا ترجمہ ہے۔جب انسان خدا تعالیٰ کا ہوجاتا ہے تو پھر کچھ شک نہیں ساری دنیا اس کی ہو جاتی ہے مگر اس وقت بڑے بڑے مشکلات آکر پڑتے ہیں لوگ ہمارے سلسلہ کی مخالفت کے لیے کیا کیا کوشش نہیں