ملفوظات (جلد 6) — Page 96
یہ بالکل سچی بات ہے کہ خدا تعالیٰ تُھڑک کر کسی کو ولی نہیں بناتا۲ بلکہ محض اپنے فضل اور عنایت سے اپنا مقرب بنالیتا ہے اس کو کسی کی کوئی حاجت نہیں ہے اس ولایت اور قرب کا فائدہ بھی اسی کو پہنچتا ہے۔ہزاروں ہزار فوائد اور امور ہوتے ہیں جو اس کے لیے مفیدثابت ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کی دعائیں قبول کرتا ہے اور نہ صرف اس کی دعائیں قبول کرتا ہے بلکہ اس کے اہل وعیال، اس کے احباب کے لیے بھی برکات عطاکرتا ہے اور صرف یہاں تک ہی نہیں بلکہ ان مقاموں میں برکت دی جاتی ہے جہاں وہ ہوتے ہیں اور ان زمینوں میں برکت رکھی جاتی ہے اور ان کپڑوں میں برکت دی جاتی ہے جن میں وہ ہوتے ہیں۔اصل یہ ہے کہ ولی اللہ بننا ہی مشکل ہے بلکہ اس مقام کا سمجھنا ہی دشوار ہوتا ہے کہ یہ کس حالت میں کہا جاوے گا کہ وہ خدا کا ولی ہے انسان انسان کے ساتھ ظاہرداری میں خوشامد کرسکتا ہے اور اس کو خوش کرسکتا ہے خواہ دل میں ان باتوں کا کچھ بھی اثر نہ ہو ایک شخص کو خیر خواہ کہہ سکتے ہیں مگر حقیقت میں معلوم نہیں ہوتا کہ وہ خیرخواہ ہے یا کیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ تو خوب جانتا ہے کہ اس کی اطاعت ومحبت کس رنگ سے ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ فریب اور دغانہیں ہوسکتا کوئی اس کو دھوکا نہیں دے سکتا۱ جب تک سچے اخلاص اور پوری وفا داری کے ساتھ یک رنگ ہوکر خدا تعالیٰ کا نہ بن جاوے کچھ فائدہ نہیں۔یاد رکھو اللہ تعالیٰ کا اجتبا اور اصطفا فطرتی جو ہرسے ہوتا ہے ممکن ہے گذشتہ زندگی میں وہ کوئی صغائر یا کبائر رکھتا ہو لیکن جب اللہ تعالیٰ سے اس کا سچا تعلق ہو جاوے تو وہ کل خطائیں بخش دیتا ہے اور پھر اس کو کبھی شرمندہ نہیں کرتا نہ اس دنیا میں اور نہ آخرت میں۔یہ کس قدر احسان اللہ تعالیٰ کا ہے کہ جب وہ ایک دفعہ درگذر کرتا اور عفوفر ماتا ہے پھر اس کا کبھی ذکر ہی نہیں کرتا اس کی پردہ پوشی فرماتا ہے پھر باوجود ایسے احسانوں اور فضلوں کے بھی اگر وہ منافقانہ زندگی بسر کرے تو پھر سخت بدقسمتی اور شامت ہے۔صفائی قلب برکات اور فیوضِ الٰہی کے حصول کے واسطے دل کی صفائی کی بھی بہت بڑی ضرورت ہے۔جب تک دل صاف نہ ہو کچھ نہیں۔چاہیے کہ جب اللہ تعالیٰ دل پر نظر ڈالے تو اس کے کسی حصّہ یا کسی گوشہ میں کوئی شعبہ نفاق کا نہ ہو۔جب یہ حالت ہو تو پھر الٰہی نظر کے ساتھ تجلّیّات آتی ہیں اور معاملہ صاف ہوجاتا ہے۔اس کے لیے ایسا وفادار اور صادق ہونا چاہیے جیسے ابراہیم علیہ السلام نے اپنا صدق دکھایا یا جس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نمونہ دکھایا۔جب انسان اس نمونہ پر قدم مارتا ہے تو وہ بابرکت آدمی ہوجاتا ہے۔پھر دنیا کی زندگی میں کوئی ذلّت نہیں اٹھاتا اور نہ تنگی رزق کی مشکلات میں مبتلا ہوتا ہے بلکہ اس پر خدا تعالیٰ کے فضل واحسان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور مستجاب الدعوات ہوجاتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کو لعنتی زندگی۱ سے ہلاک نہیں کرتا بلکہ اس کا خاتمہ بالخیر کرتا ہے۔مختصر یہ کہ جو خدا تعالیٰ سے سچا اور کامل تعلق رکھتا ہوتو خدا تعالیٰ اس کی ساری مرادیں پوری کردیتا ہے اسے نامراد نہیںرکھتا۔۱ البدر میں ہے۔’’تب خدا تعالیٰ اسے لعنتی موت سے محفوظ رکھتا ہے۔‘‘(البدر جلد ۳نمبر۱۱ مورخہ ۱۶؍ مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ۳)