ملفوظات (جلد 6) — Page 95
معلوم نہیں ہے کہ سابقہ زندگی میں کیا ہوا ہے اور کیا کیا بے اعتدالیاں اور کمزوریاں ہو چکی ہیں اس واسطے مومن کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ کبھی بے خوف نہ ہو اور ہر وقت توبہ اور استغفار کرتا رہے کیونکہ استغفار سے انسان گذشتہ بدیوں کے بُرے نتائج سے بھی خدا کے فضل سے بچ رہتا ہے۔یہ سچی بات ہے کہ توبہ اور استغفار۱ سے گناہ بخشے جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے۔اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَ يُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ (البقرۃ:۲۲۳) سچی توبہ کرنے والا معصوم کے رنگ میں ہوتا ہے پچھلے گناہ تو معاف ہو جاتے ہیں پھر آئندہ کے لیے خدا سے معاملہ صاف کرلے اس طرح پر خدا تعالیٰ کے اولیاء میں داخل ہو جائے گا اور پھر اس پر کوئی خوف وحزن نہ ہوگا جیسا کہ فرمایا ہے اِنَّ اَوْلِيَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ(یونس:۶۳) اولیاء اللہ خدا تعالیٰ نے ان کو اپنا ولی کہا ہے حالانکہ وہ بے نیاز ہے اس کو کسی کی حاجت نہیں اس لیے استثنا ایک شرط کے ساتھ ہے۔وَ لَمْ يَكُنْ لَّهٗ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ(بنی اسـرآءیل:۱۱۲) یہ بالکل سچی بات ہے کہ خدا تعالیٰ تُھڑک کر کسی کو ولی نہیں بناتا۲ بلکہ محض اپنے فضل اور عنایت سے اپنا مقرب بنالیتا ہے اس کو کسی کی کوئی حاجت نہیں ہے اس ولایت اور قرب کا فائدہ بھی اسی کو پہنچتا ہے۔ہزاروں ہزار فوائد اور امور ہوتے ہیں جو اس کے لیے مفیدثابت ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کی دعائیں قبول کرتا ہے اور نہ صرف اس کی دعائیں قبول کرتا ہے بلکہ اس کے اہل وعیال، اس کے احباب کے لیے بھی برکات عطاکرتا ہے اور صرف یہاں تک ہی نہیں بلکہ ان مقاموں میں برکت دی جاتی ہے جہاں وہ ہوتے ہیں اور ان زمینوں میں برکت رکھی جاتی ہے اور ان کپڑوں میں برکت دی جاتی ہے جن میں وہ ہوتے ہیں۔اصل یہ ہے کہ ولی اللہ بننا ہی مشکل ہے بلکہ اس مقام کا سمجھنا ہی دشوار ہوتا ہے کہ یہ کس حالت میں کہا جاوے گا کہ وہ خدا کا ولی ہے انسان انسان کے ساتھ ظاہرداری میں خوشامد کرسکتا ہے اور اس کو خوش کرسکتا ہے خواہ دل میں ان باتوں کا کچھ بھی اثر نہ ہو ایک ۱ البدر سے۔’’وہ خوب جانتا ہے کہ ہر ایک کا اندرونہ کیسا ہے۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۱۱ مورخہ ۱۶؍ مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ۳)