ملفوظات (جلد 6) — Page 94
پہلی امتوں پر رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ (البقرۃ:۶۰) تھی۔صحابہؓ کس قدر اعلیٰ درجہ رکھتے تھے لیکن ان میں سے بھی اس کا نشانہ ہو گئے اس سے ان کے مومن ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ابوعبیدہ بن الجراح جیسے صحابی جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بڑے ہی عزیزتھے طاعون ہی سے شہید ہوئے تھے۔طاعون سے مَرنا عام مومنوں کے لیے تو کوئی حرج نہیں البتہ جہاں انتظامِ الٰہی میں فرق آتا ہے وہاں خدا تعالیٰ ایسا معاملہ نہیں کرتا ہے یعنی خدا تعالیٰ کا کوئی مامور ومرسل طاعون کا شکار نہیں ہوسکتا اور نہ کسی اور خبیث مرض سے ہلاک ہوتا ہے کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ کے انتظام میں بڑانقص اور خلل پیدا ہوتا ہے پس انبیاء ورسل اور خدا کے مامور ان امراض سے بچائے جاتے ہیں اور یہی نشان ہوتا ہے۔صحابہؓ کی خصوصیت پر ضمنی تذکرہ حضرت حکیم الامت نے عرض کی کہ حضور یہ ایک بڑی عجیب بات ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہؓ میں سے ایک بھی بہرہ نہ تھا۔۱ اس پرامام الملّۃ نے فرمایا کہ چونکہ اس وقت خدا تعالیٰ کا کلام نازل ہورہاتھا اور اس اَمر کی ضرورت تھی کہ صحابہؓ اسے سنیں اور روایت کرکے دوسروں تک پہنچائیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس نظام کو قائم رکھنے کے لیے صحابہؓ کواس بہرہ پن سے محفوظ رکھا ایسے وقت اگر آنکھ نہ ہو تو کام ہوسکتا ہے لیکن کان کے بغیر کام نہیں چل سکتا ان حقائق ومعارف کو جو خدا کا مرسل لے کر آتا ہے سننے کی بہت بڑی ضرورت ہوتی ہے۔پہلے کلام کی طرف رجوع غرض یہ مقام ڈرنے کا ہے کیونکہ طاعون بڑی شدت کے ساتھ پھیل رہی ہے اور جو اس وقت بھی خدا تعالیٰ کے ساتھ اپنا معاملہ صاف نہیں کرتا وہ بڑے خطرہ کی حالت میں ہے نفاق کام نہیں دے گا اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ يَلْبِسُوْۤا اِيْمَانَهُمْ (الانعام:۸۳) بعض وقت انسان موجودہ حالت امن پر بھی بے خطر ہو جاتا ہے اور سمجھ لیتا ہے کہ امن میں زندگی گذارتا ہوں مگر یہ غلطی ہے کیونکہ یہ تو معلوم نہیں ہے کہ سابقہ زندگی میں کیا ہوا ہے اور کیا کیا بے اعتدالیاں اور کمزوریاں ہو چکی ہیں اس واسطے مومن کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ کبھی بے خوف نہ ہو اور ہر وقت توبہ اور استغفار کرتا رہے کیونکہ استغفار سے انسان گذشتہ بدیوں کے بُرے نتائج سے بھی خدا کے فضل سے بچ رہتا ہے۔یہ سچی بات ہے کہ توبہ اور استغفار۱ سے گناہ بخشے جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے۔اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَ يُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ (البقرۃ:۲۲۳) ۱ البدر سے۔’’ اللہ تعالیٰ میں یہ صفت مو من کے لیے بہت ہی مفید ہے کہ توبہ اور استغفار سے ان کے گناہ بخشے جاتے ہیں اگر یہ صفت نہ ہوتی تو پھر انسان کی بالکل تباہی ہو جاتی۔یہ بہت ہی بڑی صفت ہے کہ اس کی بارگا ہ میں سچی توبہ کرنے سے انسان بالکل معصوم ہو جاتا ہے گویا اس نے کبھی کوئی گناہ کیا ہی نہ تھا۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۱۱مورخہ ۱۶؍مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ۳) ۲ البدر میں ہے۔’’خدا کی ولایت کے یہ معنے نہیں ہیں کہ اس کو کوئی ایسی احتیاج ہے جیسے ایک انسان کو دوست کی ہوتی ہے یا تھڑکر خدا کسی کو اپنا دوست بنا لیتا ہے بلکہ اس کے معنے فضل اور عنایت سے کسی کو اپنا بنا لینا ہے اور اس سے اس شخص کو فائدہ پہنچتا ہے نہ کہ خدا کو۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۱۱ مورخہ ۱۶؍ مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ۳)