ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 94 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 94

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۴ جلد بات ہے کہ تو بہ اور استغفار سے گناہ بخشے جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے۔ اِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ (البقرة: ۲۲۳) سچی توبہ کرنے والا معصوم کے رنگ میں ہوتا ہے پچھلے گناہ تو معاف ہو جاتے ہیں پھر آئندہ کے لیے خدا سے معاملہ صاف کر لے اس طرح پر خدا تعالیٰ کے اولیاء میں داخل ہو جائے گا اور پھر اس پر کوئی خوف و حزن نہ ہوگا جیسا کہ فرمایا ہے إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (يونس : ٢٣) خدا تعالیٰ نے ان کو اپنا ولی کہا ہے حالانکہ وہ بے نیاز ہے اس کو کسی کی حاجت نہیں اس لیے اولیاء اللہ استثنا ایک شرط کے ساتھ ہے ۔ وَ لَمْ يَكُن لَّهُ وَلِي مِنَ الذُّلِّ (بنی اسراءيل: ۱۱۲) یہ بالکل سچی بات ہے کہ خدا تعالیٰ ٹھڑک کر کسی کو ولی نہیں بنا تا ہے بلکہ محض اپنے فضل اور عنایت سے اپنا مقرب بنا لیتا ہے اس کو کسی کی کوئی حاجت نہیں ہے اس ولایت اور قرب کا فائدہ بھی اسی کو پہنچتا ہے۔ ہزاروں ہزار فوائد اور امور ہوتے ہیں جو اس کے لیے مفید ثابت ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کی دعائیں قبول کرتا ہے اور نہ صرف اس کی دعائیں قبول کرتا ہے بلکہ اس کے اہل وعیال ، اس کے احباب کے لیے بھی برکات عطا کرتا ہے اور صرف یہاں تک ہی نہیں بلکہ ان مقاموں میں برکت دی جاتی ہے جہاں وہ ہوتے ہیں اور ان زمینوں میں برکت رکھی جاتی ہے اور ان کپڑوں میں برکت دی جاتی ہے جن میں وہ ہوتے ہیں ۔ اصل یہ ہے کہ ولی اللہ بننا ہی مشکل ہے بلکہ اس مقام کا سمجھنا ہی دشوار ہوتا ہے کہ یہ کس حالت میں کہا جاوے گا کہ وہ خدا کا ولی ہے انسان انسان کے ساتھ ل البدر سے ۔ اللہ تعالیٰ میں یہ صفت مومن کے لیے بہت ہی مفید ہے کہ تو بہ اور استغفار سے ان کے گناہ بخشے جاتے ہیں اگر یہ صفت نہ ہوتی تو پھر انسان کی بالکل تباہی ہو جاتی ۔ یہ بہت ہی بڑی صفت ہے کہ اس کی بارگاہ میں ۔ یہ ہے کہ کی سچی تو بہ کرنے سے انسان بالکل معصوم ہو جاتا ہے گویا اس نے کبھی کوئی گناہ کیا ہی نہ تھا۔“ تباہی ہوجاتی۔ یہ بہت ہی بڑی صفت ۔ البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶ / مارچ ۱۹۰۴ ء صفحه (۳) البدر میں ہے۔ ”خدا کی ولایت کے یہ معنے نہیں ہیں کہ اس کو کوئی ایسی احتیاج ہے جیسے ایک انسان کو دوست کی ہوتی ہے یا تھڑ کر خدا کسی کو اپنا دوست بنا لیتا ہے بلکہ اس کے معنے فضل اور عنایت سے کسی کو اپنا بنالینا ہے اور اس سے اس شخص کو فائدہ پہنچتا ہے نہ کہ خدا کو ۔“ البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶ مارچ ۱۹۰۴ ء صفحه (۳) 66