ملفوظات (جلد 6) — Page 2
جیسے ایک زمیندار اپنی زمین میں تردّد تو نہیں کرتا اور بدوں کا شت کے دعا کرتا ہے کہ اس میں غلہ پیدا ہو جاوے۔وہ حقِ تدبیر کو چھوڑتا ہے اور خدا تعالیٰ کا امتحان کرتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔اور اسی طرح پر جو شخص صرف تدبیر کرتا ہے اور اسی پر بھروسہ کرتا اور خدا تعالیٰ سے دعا نہیں مانگتا وہ ملحد ہے۔تدبیر اور دعا کا اتحاد اسلام ہے جیسے پہلا آدمی جو صرف دعا کرتا ہے اور تدبیر نہیں کرتا وہ خطاکار ہے۔اسی طرح پر یہ دوسرا جو تدبیر ہی کو کافی سمجھتا ہے وہ ملحد ہے مگرتدبیر اور دعا دونوں باہم ملا دینا اسلام ہے۔اسی واسطے میں نے کہا ہے کہ گناہ اور غفلت سے بچنے کے لیے اس قدر تدبیر کرے جو تدبیر کا حق ہے اور اس قدر دعا کرے جو دعا کا حق ہے۔اسی واسطے قرآن شریف کی پہلی ہی سورۃ فاتحہ میں ان دونوں باتوں کو مدّ ِنظر رکھ کر فرمایا ہے اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ(الفاتـحۃ:۵) اِيَّاكَ نَعْبُدُ اسی اصل تدبیر کوبتاتا ہے اور مقدم اس کو کیا ہے کہ پہلے انسان رعایتِ اسباب اور تدبیر کا حق ادا کرے مگر اس کے ساتھ ہی دعا کے پہلو کو چھوڑنہ دے بلکہ تدبیر کے ساتھ ہی اس کو مدّ ِنظر رکھے۔مومن جب اِيَّاكَ نَعْبُدُ کہتا ہے کہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں تو معاًاس کے دل میں گزرتا ہے کہ میں کیا چیز ہوں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں جب تک اس کا فضل اورکرم نہ ہو۔اس لیے وہ معاً کہتا ہے اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ مدد بھی تجھ ہی سے چاہتے ہیں۔یہ ایک نازک مسئلہ ہے جس کو بجز اسلام کے اور کسی مذہب نے نہیں سمجھا۔اسلام ہی نے اس کوسمجھاہے۔عیسائی مذہب کا تو ایسا حال ہے کہ اس نے ایک عاجز انسان کے خون پر بھروسہ کرلیا اور انسان کو خدا بنا رکھا ہے۔ان میں دعا کے لیے وہ جوش اور اضطراب ہی کب پیداہوسکتا ہے جو دعا کے ضروری اجزا ہیں وہ تو انشاء اللہ کہنا بھی گناہ سمجھتے ہیں لیکن مومن کی روح ایک لحظہ کے لیے بھی گوارانہیں کرتی کہ وہ کوئی بات کرے اور انشاء اللہ ساتھ نہ کہے۔پس اسلام کے لیے یہ ضروری اَمر ہے کہ اس میں داخل ہونے والا اس اصل کو مضبوط پکڑلے۔تدبیر بھی کرے اور مشکلات کے لیے دعا بھی کرے اور کراوے۔اگر ان دونوں پلوں میں سے کوئی ایک ہلکا ہے تو کام نہیں چلتا ہے اس لیے ہر ایک مومن کے واسطے ضروری ہے کہ اس پر عمل کرے مگر اس زمانہ میں دیکھتا ہوں کہ لوگوں کی یہ