ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 89 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 89

بنادیں اور انڈے بچے دے دئیے اس کے ہم قائل نہیں ہیں اور نہ قرآن شریف سے ایسا ثابت ہے۔ہم کیا کریں ہم اس طور پر ان باتوں کو مان ہی نہیں سکتے جس طرح پر ہمارے مخالف کہتے ہیں۔کیونکہ قرآن شریف صریح اس کے خلاف ہے اور وہ ہماری تائید میں کھڑا ہے اور دوسری طرف بار بار کثرت کے ساتھ ہمیں الہام الٰہی کہتا ہے قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُؤْمِنُوْنَ۔قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۔اب ان الہامات کے بعد ہم اور کس کی بات سنیں؟ اور وہ کون ہے جس کی آواز خدا کی ان آوازوں کے بعد ہمارے دل کو لے سکے؟ مولوی محمد حسین صاحب نے تو خود لکھ دیا ہے کہ اہل کشف اور ولی الہام کے رو سے احادیث کی صحت کر لیتے ہیں۔بعض احادیث ائمہ اہلِ حدیث کے نزدیک موضوع ہوتی ہیں اور اہل کشف بذریعہ کشف ان کو صحیح قرار دیتے ہیں اور وہ حق پر ہوتے ہیں۔اب وہ خود ہی بتاویں کہ ہم کیا کریں۔کیا ہم خدا تعالیٰ کے الہام کو مانیں یا کسی دوسرے کے قیل وقال کو؟ براہین احمدیہ موجود ہے اور وہ دشمنوں دوستوں سب کے ہاتھ میں ہے اس میں اس وقت سے ۲۵ سال پہلےکی وہ وہ پیشگوئیاں اور وعدے بھرے ہوئے ہیں جن کا اس وقت نام ونشان بھی نہ تھا۔اور وہ اب بڑے زور شور سے اپنے سچے معنوں میں پوری ہو رہی ہیں کیا کوئی آدمی ایسی نظیر بتا سکتا ہے کہ کسی کاذب کو ایسے سامان ملے ہوں کہ پہلے اتنا عرصہ دراز اس نے پیشگوئیاں کی ہوں اور وہ پھر ہماری طرح پوری ہوئی ہوں اور وہ کامیاب ہو گیا ہو۔۱،۲ ۲۶؍اپریل ۱۹۰۳ء (بوقتِ سیر) خدا تعالیٰ اور انبیاء کا علم مساوی نہیں ہوتا فرمایا کہ خدا کے علم کے ساتھ بشر کا علم مساوی نہیں ہوسکتا۔اس لیے انبیاء سے اجتہاد میں غلطیاں واقع ہوتی رہی ہیں اور پھر جب خدا نے اس پر اطلاع دی تو ان کو علم ہوا۔یہودیوں کو مسیحؑ کے وقت یہی مغالطہ ہوا انہوں نے کہا کہاںدائود کی بادشاہت قائم ہوئی اور یہی دعویٰ آخر کار رخنہ کا موجب ہوا۔اگر پیغمبر پر ہر ایک تفصیل کھول دی جاتی تو پھر ہر ایک پیغمبر کو یہ علم ہوتا کہ میرے بعد فلاں پیغمبر آوے گا اور موسیٰ علیہ السلام کو علم ہوتا کہ میرے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے حالانکہ ان کا یہی خیال ہوگا کہ آپ بنی اسرائیل سے ہوں گے۔اسی طرح آئندہ کے امور بعض وقت ایک نبی پر منکشف کئے جاتے ہیں مگر تفصیلی علم نہیں دیا جاتا۔پھر جب ان کا وہ وقت آتا ہے تو خود بخود حقیقت کھل جاتی ہے۔ہم کہتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو حَکم ہو کر آئے تھے تو کیا آپ نے یہود کی کل باتیں تسلیم کرلی تھیں؟ ۱ الحکم جلد۷نمبر ۱۶ مورخہ ۳۰ ؍اپریل۱۹۰۳ء صفحہ۸ ۲ البدرمیں ۲۵؍ اپریل کی ڈائری میں مندرجہ ذیل دو باتیں لکھی ہیں جو الحکم میںنہیں حالانکہ الحکم کی باقی ڈائری مفصل ہے مگر معلوم ہوتا ہے یہ دو باتیں وہاں رہ گئی ہیں۔البدر میںہے۔نرمی فرمایا۔’’ نرمی اس بات کا نام نہیں ہے کہ دوسرا اگر مقابل پر نرمی کرتا رہا تو تم بھی کرتے رہو اور جب اس نے ذرا تیور بدلے تو تم نے بھی بدل لیے بلکہ جب فریق مقابل سختی کرے اور اس وقت تم نرمی کرو تو اس کا نام نرمی ہوگا۔عمر کا اثر انسان پر فرمایاکہ عمر کا بھی اثر انسان کے اخلاق اور عادات پر پڑتا ہے چالیس سال تک انسان بہت سی بیہودگیاں کرتا ہے۔اس کے بعد جب انحطاط شروع ہوتا ہے تو ساتھ ہی خیالات کا بھی انحطاط شروع ہوتا ہے اور ایک تغیر عظیم انسان کے اندر ہوتاہے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۱۶ )