ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 82 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 82

کہ احادیث آثار وغیرہ و دیگر امور کو پورے ہوتے دیکھ کر ایمان لائے اور ابھی شا ئداَور بھی چند قسمیں ہوں۔ہمارا نقارہ فرمایا کہ اَعدا کا وجود ہمارا نقارہ ہے یہ انہی کی مہر بانی ہے کہ تبلیغ کرتے رہتے ہیں مثنوی میں ایک ذکر ہے کہ ایک دفعہ ایک چور ایک مکان کو نقب لگا رہا تھا ایک شخص نے اوپر سے دیکھ کر کہا کہ کیا کرتا ہے چور نے کہا کہ نقارہ بجارہاہوں اس شخص نے کہا کہ آواز تو نہیں آتی چور نے جواب دیا کہ اس نقارہ کی آواز صبح کو سنا ئی دیوے گی اور ہر ایک سنے گا ایسے ہی یہ لوگ شور مچا تے ہیں اور مخالفت کرتے ہیں تو لوگوں کو خبر ہو تی رہتی ہے۔فلسفہ جدیدہ کا فائدہ فلسفہ جدیدہ نے اگرچہ نقصانات بھی پہنچائے ہیں مگر ایک صورت میں یہ مفید بھی ہواہے کہ بہت سی غیر معقول باتوں سے دلوں میں نفرت دلادی ہے مثلاًیہ فرقہ شیعہ کہ جن کی اصلاح کی کبھی امید نہ تھی مگر اس فلسفہ سے مؤثر ہو کر وہ بھی راہ راست پر آتے جاتے ہیں۔صلحاء واتقیاء سے محبت میں غلو نہ کیا جائے ایک شخص کے اس سوال پر کہ اولیاء اللہ سے محبت رکھی جاوے کہ نہ؟ فرمایا کہ ہم اس کے مخالف نہیں ہیں کہ صلحاء اور اتقیاء اور ابرار سے محبت رکھی جاوے مگر حد سے گذر جانا حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کو مقدم رکھنا یہ مناسب نہیں ہے جیسے کہ گذشتہ ایام میں بعض شیعہ کی طرف سے ایک کتاب شائع ہوئی اس میں لکھا تھا کہ صرف امام حسین ؑکی شفاعت سے تمام انبیاء نے نجات پائی۔حالانکہ یہ بالکل غلط ہے اور اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسر شان ہے۔اس سے تو ثابت ہوا کہ خدا نے غلطی کی کہ آنحضرتؐپر قرآن نازل کیا اور حسین پر نہ کیا۔۱ ۱ البدر جلد۲نمبر۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۱۵ ۲الحکم میں ہے۔’’فرمایا کہ ہمارا ایمان ہے کہ بزرگوں اور اہل اللہ کی تعظیم کرنی چاہیے لیکن حفظِ مراتب بڑی ضروری شَے ہے۔ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ حد سے گذر کر خود ہی گنہگار ہوجائیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا دوسرے نبیوں کی ہتک ہو جائے وہ شخص جوکہتا ہے کہ کُل انبیاء علیہم السلام حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی امام حسینؓہی کی شفاعت سے نجات پائیںگے اس نے کیا غلو کیا ہے جس سے سب نبیوں کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک