ملفوظات (جلد 5) — Page 76
اور جب رویت کے ذریعہ سے کچھ بتلا یا جاوے تواسے کشف کہتے ہیں اسی طرح میں نے دیکھا ہے کہ بعض وقت ایک ایسا اَمر ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا تعلق صرف قوت ِشا مہ سے ہوتا ہے مگر اس کا نام نہیں رکھ سکتے جیسے یوسفؑ کی نسبت حضرت یعقوبؑکو خوشبو آئی تھی اِنِّيْ لَاَجِدُ رِيْحَ يُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ(یوسف:۹۵) اور کبھی ایک اَمر ایسا ہوتا ہے کہ جسم اسے محسوس کرتا ہے گویا کہ حواس خمسہ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اپنی باتیں اظہار کرتا ہے۔۱ دہریت ہندوستان اور یورپ کی دہریت میں فرق ہے۔یورپ کے دہریہ اس خدا کے منکر ہیں جو مصنوعی ہے اور عیسائی لوگ وہاں اس کو دہریہ کہتے ہیں جوکہ مسیح کو خدا نہ مانے اور اب فسق و فجور نے بھی اثر ڈالا ہے۔لوگوں نے سمجھ لیا ہے کہ یہ سب اثر کفّارہ پرستی کا ہے۔تو اب وہ کیسے مانیں۔قضا عمری ایک صاحب نے سوال کیاکہ یہ قضا عمری کیا شَے ہے جو کہ لوگ عید الاضحی کے پیشتر جمعہ کو ادا کرتے ہیں۔فرمایاکہ میرے نزدیک یہ فضول باتیں ہیں۔ان کی نسبت وہی جواب ٹھیک ہے جو کہ حضرت علیؓ نے ایک شخص کو دیا تھا جبکہ ایک شخص ایک ایسے وقت نماز ادا کررہا تھا جس وقت میں نماز جائز نہیں۔اس کی شکایت حضرت علی ؓ کے پاس ہوئی تو آپ نے اسے جواب دیا کہ میں اس آیت کا مصداق نہیں بننا چاہتا اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يَنْهٰى عَبْدًا اِذَا صَلّٰى (العلق:۱۰، ۱۱) یعنی تونے دیکھا اس کو جو ایک نماز پڑھتے بندے کو منع کرتا ہے۔نماز جورہ جاوے اس کا تدارک نہیں ہوسکتا ہاں روزہ کا ہوسکتا ہے۔۱ الحکم میں زیادہ تفصیل سے یوں لکھا ہے۔’’غرض تمام حواسِ خمسہ سے وحی ہوتی ہے اور ملہم کو قبل ازوقت بذریعہ وحی ان باتوں کی اطلا ع دی جاتی ہے۔مثنوی رومی میں ایک حکایت لکھی ہے کہ ایک دفعہ چندقیدی آنحضرت کے پاس پابجولان آئے ان قید یوں نے خیال کیا کہ آنحضرت ہمیں اس حال میں دیکھ کر بہت خوش ہوں گے۔آپ نے فرمایا کہ نہیں یہ خیال تمہارا غلط ہے۔جس وقت تم لوگ گھوڑوں پر سوار اور نا ز ونعمت میں بآرام چلتے تھے میں تواس وقت تمہیں پا بہ زنجیر دیکھ رہا تھا۔اب مجھے تمہارے دیکھنے کی کیا خوشی ہے؟ پھر مطلب یہ ہے کہ الہام کے ساتھ عموماً کشوف بھی ہوا کرتے ہیں۔اشتہار تبلیغ میں مَیں نے اپنا ایک خواب درج کیا ہے۔کیا دیکھتا ہوں کہ میں اپنے باغ میں سے سیر کرکے نکلا ہوں دیکھا کہ کچھ سوار گھوڑوں پر باغ میں داخل ہوئے۔میں نے سمجھا کہ یہ اس کو پامال کر دیں گے میں بھی ان کے عقب میں جا داخل ہوا ہوں۔کیا دیکھتا ہوں کہ سب کہیں نظر نہیں آتے جب وسط باغ میں گیا ہوں تو دیکھا کہ سب کے سر اور ہاتھ اور پاؤں کٹے ہوئے ہیں اور کھال اتا ری ہوئی ہے۔میں نے رقّت میں آکر اور رو کر خدا سے دعا کی ہے کہ یا اللہ یہ تیرا ہی کام تھا میں اکیلا ان کا مقابلہ کیا کرسکتا تھا۔تو فوراً تعبیر بتلائی گئی کہ سر کا کٹنا غرور اور تکبر کا ٹوٹنا ہے۔ہاتھوں کا کٹنا یعنی انسان اپنے ہاتھوں سے اپنے بچاؤ اور دشمن کے قتل کی مدد لیتا ہے گو یا ان کے اسباب ِامدادکٹ گئے پاؤں سے انسان بھاگ سکتا ہے یعنی اب کوئی صورت ِمفر نہیں۔کھال زینت اور پردہ ہوتا ہے یعنی ان تیرے مخالفوں کی زینت جاتی رہی اور پردہ دری ہو گئی۔یہ اب پورا ہو رہا ہے پس ہر جگہ مَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَسے ہی کام چلتا ہے۔‘‘ (الحکم جلد ۷نمبر ۱۵ مورخہ ۲۴؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۲ )