ملفوظات (جلد 5) — Page 69
رکھا ہے۔اگر عفو سے اس کی عادتِ بد جاتی رہے تو عفو کی تعلیم ہے اَور اگر اصلاح سزا میں ہوتو سزا۱ دینی چاہیے اَور پھر اگر قرآن شریف کی اور باقی تعلیموں کو بھی زمانہ کے ساتھ مطابق کرنا چاہیں تو اور کوئی تعلیم اس کا مقابلہ نہ کرسکے گی۔مسیح موعودؑ کے دعاوی کا انحصار نشانات پر ہوگا فرمایا۔قرآن شریف نے جو فرمایا ہے اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ١ۙ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا لَا يُوْقِنُوْنَ(النّمل:۸۳) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود ؑ جس کے وقت کے متعلق یہ پیشگوئی ہے اس کے دعاوی کا بہت بڑا انحصار اور دارومدار نشانات پر ہوگا اور خدا نے اسے بھی بہت سے نشانات عطا فرمارکھے ہوں گے کیونکہ یہ جو فرمایا کہ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا لَا يُوْقِنُوْنَ یعنی اس عذاب کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ہمارے نشانات کی کچھ بھی پروا نہ کی اور ان کو نہ مانا اس واسطے ان کویہ سزا ملی ہے۔ان نشانات سے مُراد صرف مسیح موعود کے نشانات ہیں ورنہ یہ اَمر تو ٹھیک نہیں کہ گناہ تو زید کرے اور اس کی سزا عمرو کو ملے جو اس سے تیرہ سوسال بعد آیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اگر لوگوں نے نشانات دیکھے اور ان سے انکار کیا تو اس انکار کی سزا تو ان کو اسی وقت مِل گئی اور وہ تباہ اور برباد ہوگئے اور اگر آیت سے وہی نشانات مُراد ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے ظاہر ہوئے تھے تو اب ہزاروں لاکھوں مسلمان ایسے ہیں کہ اگر ان سے پوچھا بھی جاوے کہ بتاؤ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کون کون سے نشانات ظاہر ہوئے تو ہزاروں میں سے شاید کوئی ہی ایسا نکلے جس کو اس طرح پر آپؐکے نشانات کا علم ہو ورنہ عام طور سے اب مسلمانوں کو خبر تک بھی نہیں کہ وہ نشانات کیا تھے اور کس طرح خدا نے آپ کی تائید میں ان کو ظاہر فرمایا مگر کیا اس لاعلمی سے کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ لوگ سارے کے سارے ان نشانات سے منکر ہیں اور ان کو وہ نہیں مانتے حالانکہ وہ مومن بھی ہیں۔اگر ان کو علم ہو تو وہ مانے بیٹھے ہیں ان کو ۱ البدر سے۔’’ایک ہی پہلو اختیارکرنا اور حلم اور عفو پر زور دینا اور وقت اور مصلحت کو نہ دیکھناکس قدر خلافِ عقل ہے۔عقل ہمیں دکھلاتی ہے کہ ہزارہا انسان ہیں جو کہ سزا کے ذریعہ ہدایت یاب ہوتے ہیں۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۱۳)