ملفوظات (جلد 5) — Page 68
ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ ہزاروں انسان ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی اصلاح ہی سزا اور چشم نمائی پر منحصر ہوتی ہے۔لڑکے جو استادوں کے پاس تعلیم پاتے ہیں ان کو بھی کچھ نہ کچھ چشم نمائی کرنی پڑتی ہے۔اگروہ ہمیشہ اور ہر خطا پر عفو ہی کرتے رہیں تو لڑکا خراب ہوجاتا ہے۔ایسی تعلیم اب یہ لوگ کرتے ہی کیوں ہیں؟ انہیں تو چاہیے تھا کہ اسے چھپاتے یہ تو زمانہ ہی ایسا تھا کہ اس کی تعلیم کو لوگوں سے پوشیدہ رکھتے۔اگر کوئی انجیل پوچھتا بھی تو کہہ دیتے کہ انجیل فلاں الماری میں بھول گئی ہے اور آج وہاں رہ گئی ہے کل دیں گے اور اس طرح پر روز ٹلاتے رہتے۔کیونکہ انجیلی تعلیم موجودہ زمانہ میں اس قابل ہی نہیں ہے کہ اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھا جاوے۔ہم پوچھتے ہیںکہ کیا کبھی کوئی ایسا شخص بھی ہے جس نے اس تعلیم پر عمل کر کے دکھایاہو۔کسی پادری اور عیسائی کو جب یہ بات حاصل نہیں تو اور کوئی کیا کرے گا۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خود مسیح نے بھی انجیل کی تعلیم کے موافق عمل کر کے نہیں دکھایا اور ان کا عمل ثابت نہیں ہے اور بیچارے کس شمار میں ہیں۔اگر یہ تعلیم صحیح ہے تو چاہیے تھا کہ عیسائی لوگ اب بھی کرتہ مانگنے والے کو چادر دے دیتے اور ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری بھی پھیر دیتے مگر ہم کو افسوس سے ظاہر کرنا پڑتا ہے کہ تکلّف اور تصنّع سے بھی برائے نام کسی نے اس پر عمل کر کے نہ دکھایا۔کوئی تو انجیل کی عزّت رکھنے والا ہوتا۔برخلاف اس کے ایسا دیکھا گیا ہے کہ اگر ذرا سی بات بھی مشنریوں کے خلاف مزاج ہوئی ہے تو عدالت تک پہنچاتے ہیں اور ہر طرح سے کوشش کرتے ہیں کہ سزا دلائی جاوے۔مگر قرآن شریف اس کے مقابلے میں کیا تعلیم دیتا ہے۔فرماتا ہے جَزٰٓؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ (الشورٰی:۴۱) یعنی بدی کی سزا اسی قدر بدی ہے لیکن اگر کوئی معاف کر دے اور اس عفو میں اصلاح مدِّ نظر ہو بگاڑ نہ ہو تو ایسے شخص کو خدا سے اجر ملے گا۔دیکھو قرآن شریف نے انجیل کی طرح ایک پہلو پر زور نہیں دیا بلکہ محل اور موقع کے موافق عفو یا سزا کی کارروائی کرنے کاحکم دیا ہے۔عفو غیر محل نہ ہو۔ایسا عفو نہ ہوکہ اس کی وجہ سے کسی مجرم کو زیادہ جرأت اور دلیری بڑھ جاوے اور وہ اَور بھی گناہ اور شرارت میں ترقی کرے۔غرض دونوں پہلوئوں کو مدِّ نظر رکھا ہے۔اگر عفو سے اس کی عادتِ بد جاتی رہے تو عفو کی تعلیم ہے اَور اگر اصلاح سزا میں ہوتو سزا۱ دینی چاہیے اَور پھر اگر قرآن شریف کی اور باقی تعلیموں کو بھی زمانہ کے ساتھ مطابق کرنا چاہیں تو اور کوئی تعلیم اس کا مقابلہ نہ کرسکے گی۔