ملفوظات (جلد 5) — Page 67
اس وقت میں اُمت موسوی کی طرح جو مامور اور مجدّدین آئے ان کا نام نبی ۳ رکھا گیا تو اس میں یہ حکمت تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ختمِ نبوت میں فرق نہ آوے (جس کا مفصل ذکر قبل ازیں گذر چکا ہے)اور اگر کوئی نبی نہ آتا تو پھر مماثلت میں فرق نہ۱ آتا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے آدم، ابراہیم، نوح اور موسیٰ وغیرہ میرے نام رکھے حتی کہ آخر کار جَرِیُّ اللّٰہِ فِیْ حُلَلِ الْاَ نْبِیَآءِ کہا۔گویا اس سے سب اعتراض رفع ہوگئے اورآپ کی اُمت میں ایک آخری خلیفہ ایسا آیا جو موسیٰ کے تمام خلفاء کا جامع تھا۔۲ ۱۷ ؍اپریل ۱۹۰۳ء (دربارِ شام) انجیل کی تعلیم ناقابلِ عمل ہے کالجوں اور مدرسوں۳ میں انجیل پڑھانے کے متعلق ذکر ہوتے ہوئے فرمایاکہ ہمیں تو تعجب آتا ہے کہ یہ لوگ انجیل کو پیش کس خیال سے کرتے ہیں۔اس کی تعلیم تو انسانی فطرت ہیکے خلاف پڑی ہوئی ہے اَور تو اَور ایک درخت کی طرح مثال خیال کرو اور اس کی مختلف شاخوں کو انسان کے مختلف قویٰ۔انسان اس بات پر مجبور ہے کہ وہ مختلف اوقات پر مختلف قویٰ سے کام لیوے کیونکہ اس کی فطرت میں اس کی پیدائش کے وقت سے ایسا ہی رکھا گیا ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ایک انسان کو ایک وقت ایک بجا اور با محل غضب ہوتو اس کی جگہ حلم کرے اور ہمیشہ ایک قوت سے کام لے دوسرے قویٰ کے ظہور کا موقع ہی نہ آوے۔اگر ایسا ہی خدا نے کرنا تھا تو اتنے مختلف قویٰ کیوں انسان کو دیئے؟ اگر صرف ایک عفو اور حلم ہی دیتا باقی قویٰ سے جب کام لینا ہی گناہ تھا تو وہ عطا کیوں کئے؟ نہیں ایسا نہیں بلکہ انسان کی انسانیت اور اخلاق فاضلہ ہی اسی میں ہیں کہ محل اور موقع کے مطابق اپنے قویٰ کا بھی اظہار کرے ورنہ اس میں اور حیوانوں میں مابہ الامتیاز کیا ہوا؟ ۱ سہو کتابت ہے غالباً’’نہ ‘‘ زائد ہے۔(مرتّب) ۲ البدر جلد ۲ نمبر ۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ءصفحہ ۱۱۳ ۳ البدر میں لکھا ہے۔’’ دو گریجوایٹ لاہور سے حضرت اقدس کی ملاقات کو تشریف لائے تھے۔اُن کی آمد پر عیسویت کے متعلق ذکر چل پڑا۔اس پر حضرت اقدس نے عیسویت کی تعلیم کے متعلق فرمایا کہ انسان اس کے قویٰ اور اخلاق کی مثال ایسی ہے جیسے ایک درخت ہو اور اس کی بہت سی شاخیں ہوں اور سب اسی لیے ہوتی ہیں کہ پھل دیویں۔ایسے ہی انسان کو جو اخلاق دیئے گئے ہیں اُن کے استعمال کے مختلف موقعے ہوتے ہیں۔کبھی حلم کی قوت ہوتی ہے مگر وقت اس کے استعمال کا نہیں ہوتا۔مصلحت اس سے کام لینے کا تقاضا نہیں کرتی۔ایسے ہی غضب کا حال ہے جس قدر قویٰ انسان لے کر آیا ہے حکمتِ الٰہی کا بھی تقاضا ہے کہ وہ اپنے اپنے محل پر استعمال ہوں ورنہ پھر خدا تعالیٰ کا فعل عبث ٹھیرتا ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ء صفحہ۱۱۳)