ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 60 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 60

کہا کہ خیراُمّت اور دوسری جگہ کہہ دیا کہ تو اَعْمٰى ہے آخرت میں بھی اَعْمٰى ہوگی۔نعوذ باللہ۔کیسے غلط عقیدے بنائے گئے ہیں۔اور اگر کوئی باہر سے اس کی اصلاح کے واسطے آگیاتو بھی مشکل۔اس اُمّت کے نبی کی ہتکِ شان اورقوم کی بھی ناک کٹی ہوئی کہ اس میں گویا کوئی بھی اس قابل نہیں کہ اصلاح کرنے کے قابل ہوسکے اور کسی کو یہ شرف مکالمہ عطا نہیں کیا جاسکتا اور اس پر بس نہیں بلکہ آنحضرتؐپر اعتراض آتا ہے کہ ایسے بڑے نبی ہو کر ان کی اُمّت ایسی کمزور اور گئی گزری ہے۔ایسا نہیں۔بلکہ بات یوں ہے کہ آنحضرتؐکے بعد بھی آپ کی اُمّت میں بھی نبوت ہے اور نبی ہیں مگر لفظ نبی کا بوجہ عظمتِ نبوت استعمال نہیں کیا جاتا لیکن برکات اور فیوض موجود ہیں۔خدا کو پانے کی راہ ایک شخص نے سوال کیا کہ وہ کیا راہ ہے جس سے انسان خدا کو پاسکے؟ فرمایا۔جو لوگ برکت پاتے ہیں ان کی زبان بند اور عمل ان کے وسیع اور صالح ہوتے ہیں۔پنجابی میں کہاوت ہے کہ کہنا ایک جانور ہوتا ہے اس کی بدبُو سخت ہوتی ہے اور کرنا خوشبو دار درخت ہوتا ہے۔سو ایسا ہی چاہیے کہ انسان کہنے کی نسبت کرکے بہت کچھ دکھائے۔صرف زبان کام نہیں آتی۔بہت سے ہوتے ہیں جو باتیں بہت بناتے ہیں اور کرتے ہیں نہایت سست اور کمزور ہوتے ہیں۔صرف باتیں جن کے ساتھ روح نہ ہو وہ نجاست ہوتی ہیں۔بات وہی برکت والی ہوتی ہے جس کے ساتھ آسمانی نور ہو اورعمل کے پانی سے سرسبز کی گئی ہو۔اس کے واسطے انسان خود بخود ہی نہیں کرسکتا۔چاہیے کہ ہر وقت خدا سے دعا کرتا رہے اور درد و گداز سے، سوز سے اس کے آستانہ پر گرا رہے اور اس سے توفیق مانگے ورنہ یاد رکھے کہ اندھا مَرے گا۔دیکھو! جب ایک شخص کو کوہڑ کا ایک داغ پیدا ہوجاوے تو وہ اس کے واسطے فکر مند ہوتا ہے اور دوسری باتیں اسے بھول جاتی ہیں۔اسی طرح جس کو رُوحانی کوہڑ کا پتا لگ جاوے اسے بھی ساری باتیں بھول جاتی ہیں اور وہ سچے علاج کی طرف دوڑتا ہے مگر افسوس کہ اس سے آگاہ بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔