ملفوظات (جلد 5) — Page 53
پھر ایسے مرتبے کے بعد انسان کو وہ رعیّت ملتی ہے کہ باغی نہیں ہوتی دنیوی بادشاہوں کی رعیّت تو باغی بھی ہو جاتی ہے مگر ملائکہ کی رعیّت ایک ایسی رعیّت ہے کہ وہ باغی نہیں ہوتی۔۱ ۱۳؍اپریل ۱۹۰۳ء (دربارِ شام ) ایک رؤیا حضرت اقدس نے مند رجہ ذیل خواب سنایا جو گذشتہ شب کو آیا تھا۔فرمایا کہ مَیں دیکھتا ہوں کہ ایک بڑا بحرِ زخار کی طرح دریا ہے جو سانپ کی طرح بل پیچ کھاتا مغرب سے مشرق کو جا رہا ہے اور پھر دیکھتے دیکھتے سمت بدل کر مشرق سے مغرب کو الٹا بہنے لگا ہے۔طاعون کا زور فرمایا کہ اب تو وہ زمانہ طاعون نے دکھانا شروع کر دیا ہے جس طرح مدینہ منورہ میں یہودی قتل ہوئے تھے تو ایک بڑا شخص زندہ رکھا گیا تھا اس نے پوچھا کہ فلاں شخص کا کیا حال ہوا فلاں کا کیا حال ہوا غرض جس کے متعلق اس نے دریافت کیا اسی کے متعلق جواب ملا کہ وہ سب قتل کئے گئے تو پھر اس نے کہا کہ لوگوں کے مارے جانے کے بعد میں نے زندہ رہ کر کیا بنانا ہے مجھے بھی زندگی کی ضرورت نہیں سوآج کل طاعون وہ حال دکھا رہا ہے۔اکثر دیکھا جاتا ہے کہ انسان لمبی عمر کے بھی خواہشمند ہوتے ہیں مگر جب دوست اور تعلق دار ہی نہ رہے تو اس عمر کا ہونا بھی ایک وبا ل ہو جاتا ہے ایسی حالت دیکھ کر انسان ایسی لمبی عمر کی بھی آرزو نہیں کرسکتا کیو نکہ انسان دوستوں اور رشتہ داروں کے بغیر رہ سکتا ہی نہیں۔انسان اور پر ندہ ایک جانور آج کل کے مو سم میں شام کے بعد مسجد مبارک کے شہ نشین احباب پر حملہ کیا کرتا ہے اس کے متعلق فرمایا کہ کوئی ایسی تدبیر کی جاوے کہ ایک دفعہ یہ اس جگہ پکڑا جاوے پھر ہم اسے چھوڑہی دیں گے مگر ایک دفعہ پکڑا جانے سے اتنا تو ضرور ہوگا کہ پھر وہ کبھی آئندہ اس جگہ اس طرح حملہ کرنے کا ارادہ نہ کرے گا۔