ملفوظات (جلد 5) — Page 47
معلوم ہوتی ہے۔اندرونی بیرونی حملوں سے پاش پاش ہوا جاتا ہے۔دجّال نے آکر ہر طرف سے گھیر لیا ہے اور پھر ایسے مصیبت کے وقت میں خدا نے اگر خبر گیری بھی کی تو ایک اَور دجّال بھیج دیا جو دین کا حامی ہونے کی بجائے بیخ کُن ہے اور ان کے لوگ ہزار مجاہدے اور ریاضت زہد و تعبد کریں مگر خدا سے مکالمے کا شرف کبھی انہیں نصیب نہیں اور ایسے گئے گذرے ہیں کہ دوسری امتوں کی عورتوں سے بھی درماندہ اور پس پا افتادہ ہیں۔ان میں تو ایک موسوی شریعت کے خادم ہزاروں نبی آتے اور ایک ایک زمانے میں چار چار سو نبی بھی ہوتے رہے مگر اس اُمّت میں آنحضرتؐکی شریعت کا خادم ایک بھی صاحبِ الہام نہ آیا۔گویا کہ سارے کا سارا باغ ہی بے ثمر رہ گیا۔پہلے لوگوں کے باغ تو مثمر ہوئے مگر ان کے اعتقاد کے بموجب نعوذ باللہ آپؐکا باغ بھی بے برگ و بار ہوا۔اگر ان لوگوں کا یہی دین اور ایمان ہے تو خدا دنیا پر رحم کرے اور لوگوں کو ایسے ایمان سے نجات دیوے۔ایمان ایمان کی نشانی ہی کیا ہے اور اس کے معنے کیا ہیں یہی کہ مان لینااور پھر اس پر یقین آجانا۔جب انسان ایک بات کو سچے دل سے مان لیتا ہے تو اس کا اس پر یقین ہوجاتا ہے اور اسی کے مطابق اس سے اعمال بھی سرزد ہوتے ہیں۔مثلاً ایک شخص جانتا ہے کہ سنکھیا زہر ہوتا ہے اور اس کے کھانے سے انسان مَر جاتا ہے یا ایک سانپ جان کاہ دشمن ہوتا ہے جس کو کاٹتا ہے اس کی جان کے لالے پڑ جاتے ہیں تو اس ایمان کے بعد نہ تو وہ سنکھیا کھاتا اور نہ ہی سانپ کی سوراخ میں اُنگلی ڈالتا۔آج کل طاعون کے متعلق لوگوں کو ایمان ہے کہ اس کی لاگ سے انسان ہلاک ہوجاتا ہے۔اسی واسطے جس مکان میں طاعون ہو اُس سے کوسوں بھاگتے ہیں اور چھوڑ جاتے ہیں غرض جس چیز پر ایمان کامل ہوتا ہے اس کے مطابق اس سے عمل بھی صادر ہوا کرتے ہیں۔مگر کیا وجہ ہے کہ خدا موجود ہونے کا تو ایمان ہو اور جزا سزا کے دن کا ایمان ہو اور حساب کتاب یاد ہوتو پھر گناہ باقی رہ جاویں۔یہ مسئلہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔کیا خدا کا ایمان سانپ کے خوف سے بھی گیا گذرا ہے؟مومن ہونے کا دعویٰ ہے اور پھر بایں چوری، جھوٹ، زنا، بد نظری، شراب خوری، فسق فجور میں فرق نہیں نفاق اور ریا کاری کی تصدیق نہیں۔زبانی ایمان کا دعویٰ ہے ورنہ عملی طور پر ایمان اور دین کچھ بھی چیز نہیں۔ہم صاف مشاہدہ کرتے ہیں کہ انسان کو جس چیز کے مفید ہونے کا ایمان ہے اسے ہرگزہر گز ضائع نہیں کرتا کوئی امیراور کوئی غریب ہم نے نہیں دیکھا جو اپنے گھر سے اپنی جائیداد یا دولت کو جو اس کے پاس ہے باہر نکال پھینکتا ہو بلکہ ہم نے تو کسی کو ایک پیسہ بھی پھینکتے نہیں دیکھا۔پیسہ تو کجا ایک سوئی بھی اگر کمائی ہوئی ٹوٹ جاوے تو اسے رنج ہوتا ہے کہ میرے کار آمد چیز تھی۔مگر ایمان باللہ کی قدر ان لوگوں کی نظر میں اس سوئی کے برابر بھی نہیں اور نہ اس کا فائدہ ایک سوئی کے برابر لوگ جانتے ہیں۔پس جب ایمان ایسا ہوتا ہے کہ ایک سوئی کے برابر بھی اس کی قدر ان میں نہیں ہوتی۔تو اسی کے مطابق ان کو انسان سے نفع بھی نہیں پہنچتا اور نہ ان کو وہ کمال حاصل ہوتا ہے کہ خدا ان پر الہامات کے دروازے کھول دیوے۔۱