ملفوظات (جلد 5) — Page 41
کے واسطے ضروری ہے کہ آپ پر درود پڑھو اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کرو۔سب حکموں پر کاربند رہو جیسے کہ حکم ہے قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (اٰل عـمران:۳۲) یعنی اگر تم خدا سے پیار کرنا چاہتے ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے فرمان بردار بن جائو اور رسول کریم کی راہ میں فنا ہوجائو تب خدا تم سے محبت کرے گا۔جب لوگ بدعتوں پر عمل کرتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ کیا کریں دنیا سے چھٹکارا نہیں ملتا یا کہتے ہیں کہ ناک کٹ جاتی ہے۔ایسے وقت میں گویا انسان خدا تعالیٰ کے اس فرمان کو چھوڑتا ہے جو رسول کریم کی اطاعت کا ہے اور خیال کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ سے محبت کرنابے فائدہ ہے۔۱ ۱۱؍ اپریل ۱۹۰۳ء (صبح کی سیر ) دلیلِ صداقت فرمایا۔جب ہمیں یہ الہام ہوا تھا وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَ وَحْيِنَا اس وقت تو ایک شخص بھی ہمارا مرید نہ تھا۔اگر یہ سلسلہ من عند غیراللہ ہوتا تو آج تک الٰہی بخش کی طرح بیکار ہی پڑا رہتا۔کیا یہ ثبوت کافی نہیں؟ الٰہی بخش تو میرے الہامات کے پیچھے پیچھے چلتا ہے۔ایسا کیوں کرتا ہے کہ الہام ہمارے سالہا سال سے شائع ہوچکے ہیں ان کی اب نقل کرتا ہے۔اصل میں جس طرح درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے اسی طرح حق اپنے انوار سے شناخت کیا جاتا ہے۔اسی طرح یَا مَسِیْحَ الْـخَلْقِ عَدْوَانَا اس وقت سے چھپا ہوا اور شائع شدہ ہے جبکہ طاعون کا کہیں نام و نشان بھی نہ تھا اور اب آج طاعون کی وجہ سے لوگ آتے اور زبانِ حال سے کہتے ہیں یَا مَسِیْحَ الْـخَلْقِ عَدْوَانَا اور اکثر اپنے خطوں میں لکھتے ہیں۔اب یاتو یہ ثابت کرو کہ یہ الہام ہمارا من گھڑت ہے اور ہم نے اپنی کوشش سے چند لوگوں کو اس کے مکمل کرنے کے واسطے ملا لیا ہے یا یہ قبول کرو کہ یہ جو دودواور چارچار سو آدمی یکدم بیعت کرتے ہیں یہ خدا کی تائید ہے۔۱ البدر جلد ۲ نمبر ۱۴ مورخہ ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۰۸،۱۰۹