ملفوظات (جلد 5) — Page 42
جس زور کے طاعون کی وجہ سے لوگ اس سلسلہ میں داخل ہورہے ہیں اس طرح کسی کو یقین چھوڑ وَہم بھی نہ تھا کیونکہ یہ الہام اس وقت کا ہے جب ا ن لوگوں کا نام ونشان بھی نہ تھا۔اس لیے ان تمام ناموں کو محفوظ رکھا جاوے اور اگر ان لوگوں کا الگ رجسٹر نہ ہو تو رجسٹر بیعت ہی میں سُرخی کے ساتھ ان کو درج کیا جاوے۔کنچنی کی مسجد میں نماز ایک شخص کے سوال پر فرمایا کہ کنچنی کی بنوائی ہوئی مسجد میں نماز درست نہیں ہے۔طریقِ ادب سے بعید سوالات پھر ایک شخص نے پوچھا کیا قیامت کے دن بھی ہماری جماعت اسی طرح آپ کے آگے پیچھے ہوگی؟ فرمایا۔یہ تفصیلیں نہیں ہوسکتی ہیں۔ایسے سوال طریقِ ادب سے بعید ہیں۔یہ بات اللہ تعالیٰ پر چھوڑو۔حق کی چارہ جوئی سوال ہوا کہ مخالف ہم کو مسجد میں نمازپڑھنے نہیں دیتے حالانکہ مسجد میں ہمارا حق ہے۔ہم ان سے بذریعہ عدالت فیصلہ کرلیں؟ فرمایا۔ہاں اگر کوئی حق ہے تو بذریعہ عدالت چارہ جوئی کرو۔فساد کرنا منع ہے۔کوئی دنگہ فساد نہ کرو۔مخالف کے گھر کی چیز کھانا سوال ہوا کہ کیا مخالفوں کے گھر کی چیز کھا لیویں یا نہ؟ فرمایا۔نصاریٰ کی پاک چیزیں بھی کھا لی جاتی ہیں۔ہندوؤں کی مٹھائی وغیرہ بھی ہم کھا لیتے ہیں پھر ان کی چیز کھا لینا کیا منع ہے۔مخالف سے حسنِ معاشرت ہاں میں تو نماز سے منع کرتا ہوں کہ ان کے پیچھے نہ پڑھو۔اس کے سوائے دنیاوی معاملات میں بے شک شریک ہو۔احسان کرو، مروّت کرو اور ان کو قرض دو اور ان سے قرض لو اگر ضرورت پڑے اور صبرسے کام لو۔شائد کہ اس سے سمجھ بھی جاویں۔