ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 388 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 388

ہو تو اس کے نرم کرنے کے لیے یہی طریق ہے کہ قرآن شریف کو ہی بار بار پڑھے جہاں جہاں دعا ہوتی ہے وہاں مومن کا بھی دل چاہتا ہے کہ یہی رحمتِ الٰہی میرے بھی شاملِ حال ہو۔قرآن شریف کی مثال ایک باغ کی ہے کہ ایک مقام سے انسان کسی قسم کا پھول چنتا ہے۔پھر آگے چل کر اور قسم کا چُنتا ہے۔پس چاہیے کہ ہر ایک مقام کے مناسبِ حال فائدہ اُٹھاوے۔اپنی طرف سے الحاق کی کیا ضرورت ہے ورنہ پھر سوال ہوگا کہ تم نے ایک نئی بات کیوں بڑھائی؟ خدا کے سوا اور کس کی طاقت ہے کہ کہے فلاں راہ سے اگر سورئہ یٰس پڑھو گے تو برکت ہو گی ورنہ نہیں۔قرآن شریف سے اعراض کی صورتیں قرآن شریف سے اعراض کی دو صورتیں ہوتی ہیں ایک صوری اور ایک معنوی۔صوری یہ کہ کبھی کلام الٰہی کو پڑھا ہی نہ جاوے جیسے اکثر لوگ مسلمان کہلاتے ہیں مگر وہ قرآن شریف کی عبارت تک سے بالکل غافل ہیں اور ایک معنوی کہ تلاوت تو کرتا ہے مگر اس کی برکات وانوار و رحمت الٰہی پر ایمان نہیں ہوتا۔پس دونوں اعراضوں میں سے کوئی اعراض ہو اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔امام جعفرؑ کا قول ہے واللہ اعلم کہاں تک صحیح ہے کہ میں اس قدر کلام الٰہی پڑھتا ہوں کہ ساتھ ہی الہام شروع ہو جاتا ہے مگر بات معقول معلوم ہوتی ہے کیونکہ ایک جنس کی شَے دوسری شَے کو اپنی طرف کشش کرتی ہے۔اب اس زمانہ میں لوگوں نے صد ہا حاشیے چڑھائے ہوئے ہیں۔شیعوں نے الگ سنّیوں نے الگ۔ایک دفعہ ایک شیعہ نے میرے والد صاحب سے کہا کہ میں ایک فقرہ بتلاتا ہوں وہ پڑھ لیا کرو تو پھر طہارت اور وضو وغیرہ کی ضرورت نہیں ہو گی۔اسلام میں کفر، بدعت، الحاد، زندقہ وغیرہ اسی طرح سے آئے ہیں کہ ایک شخصِ واحد کے کلام کو اس قدر عظمت دی گئی جس قدر کہ کلام الٰہی کو دی جانی چاہیے تھی۔صحابہ کرامؓاسی لیے احادیث کو قرآن شریف سے کم درجہ پر مانتے تھے۔ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فیصلہ کرنے لگے تو ایک بوڑھی عورت نے اُٹھ کر کہا۔حدیث میں یہ لکھا ہے۔تو آپ ؓ نے فرمایا کہ میں ایک بڑھیا کے لیے کتاب اللہ کو ترک نہیں کرسکتا۔اگر ایسی ایسی باتوں کو جن کے ساتھ وحی کی کوئی مدد نہیں وہی عظمت