ملفوظات (جلد 5) — Page 384
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۸۴ جلد پنجم گئے مگر انہوں نے اس کو منظور نہ کیا کہ وہ ان کافروں کو کہہ دیتے کہ تمہارے ٹھا کروں کی پوجا کرتا ہوں۔ خدا تعالیٰ کے لیے ہر تکلیف اور مصیبت کو برداشت کرنے پر آمادہ ہو گئے خدا تعالیٰ نے کہا کہ اپنی بیوی کو بے آب و دانہ جنگل میں چھوڑ آ ۔ انہوں نے فی الفور اس کو قبول کر لیا ہر ایک ابتلا کو انہوں نے اس طرح پر قبول کر لیا کہ گویا عاشق اللہ تھا۔ درمیان میں کوئی نفسانی غرض نہ تھی۔ اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتلا پیش آئے ۔ خویش واقارب نے مل کر ہر قسم کی ترغیب دی کہ اگر آپ مال و دولت چاہتے ہیں تو ہم دینے کو طیار ہیں اور اگر آپ بادشاہت چاہتے ہیں تو اپنا بادشاہ بنا لینے کو طیار ہیں اگر بیویوں کی ضرورت ہے تو خوبصورت بیویاں دینے کو موجود ہیں ۔ مگر آپ کا جواب یہی تھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے تمہارے شرک کے دور کرنے کے واسطے مامور کیا ہے جو مصیبت اور تکلیف تم دینی چاہتے ہو دے لو میں اس سے رک نہیں سکتا کیونکہ یہ کام جب خدا نے میرے سپر دکیا ہے پھر دنیا کی کوئی ترغیب اور خوف مجھ کو اس سے ہٹا نہیں سکتا۔ آپ جب طائف کے لوگوں کو تبلیغ کرنے گئے تو ان خبیثوں نے آپ کے پتھر مارے جس سے آپ دوڑتے دوڑتے گر جاتے تھے لیکن ایسی مصیبتوں اور تکلیفوں نے آپ کو اپنے کام سے نہیں روکا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صادقوں کے لیے کیسی مشکلات اور مصائب کا سامنا ہوتا ہے اور کیسی مشکل گھڑیاں ان پر آتی ہیں مگر باوجود مشکلات کے ان کی قدر شناسی کا بھی ایک دن مقرر ہوتا ہے اس وقت ان کا صدق روز روشن کی طرح کھل جاتا ہے اور ایک دنیا ان کی طرف دوڑتی ہے۔ عبداللطیف کے لیے وہ دن جو اس کی سنگساری کا دن تھا کیسا مشکل تھا وہ ایک میدان میں سنگساری کے لیے لایا گیا اور ایک خلقت اس تماشا کو دیکھ رہی تھی مگر وہ دن اپنی جگہ کس قدر، قدر و قیمت رکھتا ہے۔ اگر اس کی باقی ساری زندگی ایک طرف ہوا اور وہ دن ایک طرف ، تو وہ دن قدر و قیمت میں بڑھ جاتا ہے زندگی کے یہ دن بہر حال گذر ہی جاتے ہیں اور اکثر بہائم کی زندگی کی طرح گزرتے ہیں لیکن مبارک وہی دن ہے جو خدا تعالیٰ کی محبت و وفا میں گذرے۔ فرض کرو کہ ایک شخص کے پاس ل البدر سے ۔ مگر اس وعظ اور تبلیغ سے باز آؤ۔“ البدر جلد ۳ نمبر ۳ مورخه ۱۶ جنوری ۱۹۰۴ ء صفحه (۶)