ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 376 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 376

اور وہ تکلّف اور تکلیف جو پہلے ہوتی تھی اب ذوق وشوق اور لذّت سے بدل جاتی ہے یہ مقام ہوتا ہے صالحین کا جن کے لیے فرمایا لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِي الصّٰلِحِيْنَ اس مقام پر پہنچ کر کوئی فتنہ اور فساد مومن کے اندر نہیں رہتا۔نفس کی شرارتوں سے محفوظ ہو جاتا ہے اور اس کے جذبات پر فتح پا کر مطمئن ہو کر دارالامان میں داخل ہو جاتا ہے۔ابتلا اور امتحان ایمان کی شرط ہے اور اس سے آگے فرمایا ہے وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِيَ فِي اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ (العنکبوت:۱۱) اور بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو زبانی تو ایمان کے دعوے کرتے ہیں اور مومن ہونے کی لاف وگزاف مارتے رہتے ہیں مگر جب معرضِ امتحان وابتلا میں آتے ہیں تو ان کی حقیقت کھل جاتی ہے۔اس فتنہ وابتلا کے وقت ان کا ایمان اللہ تعالیٰ پر ویسا نہیں رہتا بلکہ شکایت کرنے لگتے ہیں اسے عذابِ الٰہی قرار دیتے ہیں۔حقیقت میں وہ لوگ بڑے ہی محروم ہیں۔جن کو صالحین کا مقام حاصل نہیں ہوتا۔کیونکہ یہی تو وہ مقام ہے جہاں انسان ایمانی مدارج کے ثمرات کو مشاہدہ کرتا ہے اور اپنی ذات پر ان کا اثر پاتا ہے اور نئی زندگی اسے ملتی ہے لیکن یہ زندگی پہلے ایک موت کو چاہتی ہے اور یہ انعام و برکات امتحان وابتلا کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں۔یہ یاد رکھو کہ ہمیشہ عظیم الشان نعمت ابتلا سے آتی ہے اور ابتلا مومن کے لیے شرط ہے جیسے اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْۤا اَنْ يَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ(العنکبوت:۳)یعنی کیا لوگ گمان کر بیٹھے ہیں کہ وہ اتنےہی کہہ دینے پرچھوڑدیئے جاویں کہ ہم ایمان لائے اور وہ آزمائے نہ جاویں۔ایمان کے امتحان کے لیے مومن کو ایک خطرناک آگ میں پڑنا پڑتا ہے مگر اس کا ایمان اس آگ سے اس کو صحیح سلامت نکال لاتا ہے اور وہ آگ اس پر گلزار ہو جاتی ہے۔مومن ہو کر ابتلا سے کبھی بے فکر نہیں ہونا چاہیے اور ابتلا پر زیادہ ثباتِ قدم دکھانے کی ضرورت ہوتی ہے اور حقیقت میں جو سچا مومن ہے ابتلا میں اس کے ایمان کی حلاوت اور لذّت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور اس کے عجائبات پر اس کا ایمان بڑھتا ہے اور وہ پہلے سے بہت زیادہ خدا کی طرف توجہ کرتا اور دعائوں سے فتحیاب اجابت چاہتا ہے۔