ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 371 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 371

کرے اور کہے کہ میں نہیں پیتا ہوں لیکن ایک دن آئے گا کہ وہ ضرور پیے گا۔پس اس سے کبھی بے خبر نہیں رہنا چاہیے کہ صحبت میں بہت بڑی تاثیر ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اصلاحِ نفس کے لیے كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ کا حکم دیا ہے جو شخص نیک صحبت میں جاتا ہے خواہ وہ مخالفت ہی کے رنگ میں ہو لیکن وہ صحبت اپنا اثر کئے بغیر نہ رہے گی اور ایک نہ ایک دن وہ اس مخالفت سے باز آجائے گا۔ہم افسوس سے کہتے ہیں کہ ہمارے مخالف اسی صحبت کے نہ ہونے کی وجہ سے محروم رہ گئے اگر وہ ہمارے پاس آ کر رہتے ہماری باتیں سنتے تو ایک وقت آجاتا کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کی غلطیوں پر متنبہ کر دیتا اور وہ حق کو پالیتے لیکن اب چونکہ اس صحبت سے محروم ہیں اور انہوں نے ہماری باتیں سننے کا موقع کھو دیا ہے اس لیے کبھی کہتے ہیں کہ نعوذباللہ یہ دہریئے ہیں شراب پیتے ہیں زانی ہیں اور کبھی یہ اتہام لگاتے ہیں کہ نعوذباللہ پیغمبرِخدا صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین کرتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں ایسا کیوں کہتے ہیں؟ صحبت نہیں اور یہ قہر الٰہی ہے کہ صحبت نہ ہو۔لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صلح حدیبیہ کی ہے تو صلح حدیبیہ کے مبارک ثمرات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لوگوں کو آپ کے پاس آنے کا موقع ملا اور انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنیں تو ان میں صدہا مسلمان ہو گئے جب تک انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں نہ سنی تھیں ان میں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ایک دیوار حائل تھی جو آپؐکے حسن وجمال پر ان کو اطلاع نہ پا نے دیتی تھی اور جیسا دوسرے لوگ کذاب کہتے تھے (معاذاللہ) وہ بھی کہہ دیتے تھے اور ان فیوض وبرکات سے بے نصیب تھے جو آپؐلے کر آئے تھے اس لیے کہ دور تھے لیکن جب وہ حجاب اٹھ گیا اور پاس آکر دیکھا اور سنا تو وہ محرومی نہ رہی اور سعیدوں کے گروہ میں داخل ہوگئے۔اسی طرح پر بہتوں کی بدنصیبی کا اب بھی یہی باعث ہے۔جب ان سے پوچھا جاوے کہ تم نے ان کے دعویٰ اور دلائل کو کہاںتک سمجھا ہے توبجز چند بہتانوں اور افتراؤں کے کچھ نہیں کہتے جو بعض مفتری سنادیتے ہیں اور وہ ان کو سچ مان لیتے ہیں اور خود کوشش نہیں کرتے کہ یہاں آکرخود تحقیق کریں اور ہماری صحبت میں رہ کر دیکھیں۔اس سے ان کے دل سیاہ ہو جاتے ہیں اور وہ حق کو نہیں پاسکتے لیکن اگر