ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 370 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 370

ہے وہ بڑا ہی بابرکت ہوتا ہے اور جو انسان کے اپنے ہاتھ سے ہو وہ با برکت نہیں ہوسکتا۔اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ جب تک خدا کا فضل اور اسی کے ہاتھ سے نہ ہو تو کچھ نہیں ہوتا۔پس محض اپنی سعی اور کوشش سے طہارت ِنفس پیدا ہو جاوے یہ خیال باطل ہے لیکن اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ پھر انسان کوشش نہ کرے اور مجاہدہ نہ کرے۔نہیں بلکہ کوشش اورمجاہدہ ضروری ہے اور سعی کرنا فرض ہے خدا تعالیٰ کا فضل سچی محنت اور کوشش کو ضائع نہیں کرتا اس واسطے ان تمام تدابیر اور مساعی کو چھوڑنا نہیں چاہیے جو اصلاح نفس کے لیے ضروری ہیں مگر یہ تجاویزاور تدابیر اپنے نفس اور خیال سے پیدا کی ہوئی نہیں ہونی چاہئیں بلکہ ان تدابیر کو اختیار کرنا چاہیے جن کو خود اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے اور جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کرکے دکھائی ہیں۔آپ کے قدم پر قدم مارواور پھر دعاؤں سے کام لو۔تم نا پاکی کے کیچڑ میں پھنسے ہوئے ہو مگر خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر صرف تدبیروں سے صاف چشمہ تک نہیں پہنچ سکتے جو طہارت کا موجب بنے۔بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کو چھوڑتے ہیں اور اپنی تدبیروں پر بھروسہ کرتے ہیں وہ احتیاطیں کرتے کرتے خود مبتلا ہو جاتے ہیں اور پھنس جاتے ہیں۔اس واسطے کہ خدا کا فضل ان کے ساتھ نہیں ہوتا اور ان کی دستگیری نہیں کی جاتی۔خدا تعالیٰ کو چھوڑ کراپنی تجویز اور خیال سے اگر کوئی اصلاحِ نفس کرنے کا مدعی ہو وہ جھوٹا ہے۔اصلاح نفس کی ایک راہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے۔كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ(التوبۃ:۱۱۹) یعنی جو لوگ قولی، فعلی، عملی اور حالی رنگ میں سچائی پر قائم ہیں ان کے ساتھ رہو اس سے پہلے فر مایا يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ (التوبۃ:۱۱۹)یعنی ایمان والو!تقویٰ اللہ اختیار کرو اس سے یہ مُراد ہے کہ پہلے ایمان ہو پھر سنّت کے طور پر بدی کی جگہ کو چھوڑ دے اور صادقوں کی صحبت میں رہے صحبت کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے جو اندر ہی اندر ہوتا چلا جاتا ہے۔اگر کوئی شخص ہر روز کنجر یوں کے ہاں جاتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ کیا میں زناکرتا ہوں؟ اس سے کہنا چاہیے کہ ہاں تو کرے گا اور وہ ایک نہ ایک دن اس میں مبتلا ہو جاوے گا کیونکہ صحبت میں تا ثیر ہوتی ہے اسی طرح پر جو شخص شراب خانہ میں جاتا ہے خواہ وہ کتنا ہی پرہیز